Thursday, September 29, 2022

نواب سراج خان رئیسانی تھائی لینڈ میں بطور سیاح گئے

نواب سراج خان رئیسانی تھائی لینڈ میں بطور سیاح گئے
کوئٹہ (92 نیوز) مستونگ میں خودکش حملے میں شہید ہونے والے نواب سراج خان رئیسانی کی زندگی کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس سے بہت سے لوگ ناواقف ہیں۔ نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی تھائی لینڈ میں بطور سیاح آئے اور شمالی شہر چنگرائی میں انکا خوف ناک ایکسیڈنٹ ہوا جس میں انکی حالت انتہائی تشویشناک تھی لیکن وہیں پر ایک مقامی کسان نے ان کی دیکھ بھال کی۔ کسان نے  میر سراج خان رئیسانی کو پاکستانی سفارتخانہ بینکاک آنے کے لیے زرمبادلہ بھی دیا جہاں سے انہوں نے اپنا پاسپورٹ حاصل کیا اور ٹکٹ لے کر وطن واپس چلے گئے۔ تین مہینے بعد دوبارہ یہ تھائی لینڈ واپس آئے اپنا قرض واپس کیا اور واپس تھائی لینڈ جا کر اسی کسان  کی بیٹی سے شادی کی اور پھر یہی نہیں نوبزادہ  سراج خان وہیں بس گئے۔ انہوں نے وہیں زمین کا ایک بہت بڑا ٹکڑا خریدا اور روزگار شروع کیا۔ اللہ پاک نے ان کو دو بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی۔ ان کا ایک بیٹا 2011 میں پاکستان میں بم دھماکے میں شہید ہوا جب کہ دوسرا بیٹا فٹ بال کی ٹیم میں ہے۔ انکی شہادت پر پاکستان بھر میں سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ بینکاک میں قائم پاکستانی سفارت خانہ میں بھی سوگ کا اعلان کیا گیا اور اس سلسلے میں 15 جولائی 2018 کو پرچم سرنگوں رکھا گیا۔ نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی پاکستان کے عام انتخابات 2018 میں  حلقہ پی پی 35 مستونگ بلوچستان سے الیکشن لڑ رہے تھے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما تھے۔ ان کی انتخابی مہم کے دوران 13 جولائی 2018 کو مستونگ میں ایک خودکش دھماکہ ہوا جس میں  نوابزادہ میر سراج خان رئیسانیکے سمیت 128 سے زائد افراد شہید اور ایک سو بیس سے زائد افراد ہو گئے۔