Saturday, December 4, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

نقیب اللہ قتل کیس، عدالت کی راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے پولیس کو تین دن کی مہلت

نقیب اللہ قتل کیس، عدالت کی راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے پولیس کو تین دن کی مہلت
January 27, 2018

کراچی (92 نیوز) نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی راؤ انوار سپریم کورٹ میں بھی پیش نہ ہوئے جس پر عدالت عظمیٰ نے راؤ انوار کی گرفتاری کے لئے پولیس کو تین دن کی مہلت دے دی ۔
نقیب اللہ محسود قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہوئی ۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا راو انوار عدالت میں موجود ہیں جس پر آئی جی سندھ نے بتایا کہ وہ مفرور ہے ۔
اس پر چیف جسٹس نے اے ڈی خواجہ سے استفسار کیا کہ آپ نے گرفتار کرنے کے لیے کیا کوشیش کیں تو آئی جی سندھ نے بتایا کہ گرفتاری کی ہرممکن کوشش کی لیکن وہ ہاتھ نہیں آیا ۔
ادھر عدالت نے ایوی ایشن حکام سے استفسار کیا کہ بتایا جائے راو انوار نے کسی نجی طیارے میں تو سفر نہیں کیا اور ساتھ ہی یہ بھی پوچھا کہ کس کس کے پاس نجی طیارے ہیں ۔
عدالت نے کہا کہ مالکان سے حلف نامہ لیکر عدالت میں جمع کروائیں کہ راو انوار نے ان کے طیاروں میں سفر کیا یا نہیں ۔
چیف جسٹس نے راو انوار کے بیرون ملک سفر کی تفصیلات بھی طلب کر لیں ۔
دوسری طرف سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا گیا کہ زمینی راستوں اور ہر بارڈرز کے ذمہ دار سے بھی جواب طلب کریں کہ راو انوار ان کے بارڈر سے تو فرار نہیں ہوا ۔
چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے یہ استفسار بھی کیا کہ کراچی میں کسی نے راؤ انوار کو چھپایا تو نہیں کیونکہ یہاں بھی بڑے بڑے چھپانے والے موجود ہیں۔ کہیں یہ تو نہیں کہ جہاں راو گیا وہ جگہ آپ کی پہنچ میں نہ ہو ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ آزادی سے کام کریں کسی کے دباؤ میں نہ آئیں ۔
عدالت نے راو انوار کی گرفتاری کے لئے آئی جی سندھ کو تین دن کا وقت دے دیا ۔
دوران سماعت مقتول نقیب اللہ کے والد نے عدالت سے کہا کہ ایسے انصاف چاہے ۔ تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن بنایا جائے جس پر چیف جسٹس نےکہا کہ عدالتی کمیشن حل نہیں ہے۔ پولیس میں اچھےافسران بھی ہیں ۔ آئی جی اور جے آئی ٹی پر اعتبار کریں نقیب اللہ ہمارا بچہ تھا ریاست کو قتل عام کی اجازت نہیں دے سکتے ۔
عدالت نے ہوم سیکرٹری، ڈی جی سول ایوی ایشن، آئی جی سندھ، جے آئی ٹی سے رپورٹس طلب کرتے ہوئے نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ۔
ادھر نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ انہیں پتا ہوتا کہ راو انوار کہاں ہے تو وہ پکٹر کر لے آتے ۔
اے ڈی خواجہ نے راو انوارکو مشورہ دیا کہ وہ خود قانون کا احترام کرے اور خود کو پولیس کے حوالے کر دے اورعدالتوں کا سامنا کرے ۔