Saturday, October 1, 2022

نجی کمپنی کا پانی غیرمعیاری ، منرلز شامل ہی نہیں ہیں ، چیف جسٹس پاکستان

نجی کمپنی کا پانی غیرمعیاری ، منرلز شامل ہی نہیں ہیں ، چیف جسٹس پاکستان
لاہور ( 92 نیوز ) نیسلے کی جانب سے زیر زمین پانی نکال کر فروخت کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کمپنی کا پانی غیرمعیاری ہے، میں  نے تو پینا ہی چھوڑ دیا ہے، نیسلے کی بوتل کے لیبل پر جھوٹ لکھا ہے، پانی میں منرلز شامل ہی نہیں ۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نیسلے کی جانب سے زیر زمین پانی نکال کر فروخت کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،   نیسلے کی جانب سے 81 ڈبوں پر مشتمل ریکارڈعدالت میں پیش کیاگیا ۔ عدالت نے کمپنی کا آڈٹ مکمل ہونے تک کمپنی کی سی ای او کو عدالت میں رہنے کا حکم دے دیا ، انہوں نے ڈپٹی رجسٹرار کو آڈٹ کے لئے دو کمرے مختص  کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالتی معاون ظفراقبال کلانوری نے بتایا کہ کمپنی نے غیر قانونی طور پر اربوں روپے کا پانی فروخت کر دیا،ٹیکس بھی عوام کی جیب سے دیا جا رہا ہے ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے وکیل  اعتزازاحسن نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی وکا لت کرنا جرم نہیں  ۔ عدالت نےملک  کی تمام منرل واٹر کمپنیوں،تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کر دیئے ،چیف جسٹس نے ہدایت کہ ایڈووکیٹ جنرلز بھی آکر بتائیں کہ کیا نرخ ہونا چاہئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیسلے کمپنی کرائے کی جگہ لے کر وہاں سے مفت کا پانی بیچ رہی ہے،منرل واٹر کمپنیوں نے اربوں روپے کمائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم گھروں پر پانی بچا رہے ہیں اور آپ کرائے کی جگہوں سے پانی نکال کر بیچ رہے ہیں۔ عدالت نے مزید کارروائی آئندہ جمعرات تک ملتوی کر دی۔