Tuesday, January 18, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

نا اہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس، آئندہ کوئی نہ آیا تو یکطرفہ فیصلہ ہوگا، چیف جسٹس

نا اہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس، آئندہ کوئی نہ آیا تو یکطرفہ فیصلہ ہوگا، چیف جسٹس
January 30, 2018

اسلام آباد ( 92 نیوز ) ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین پیش ہو گئے جبکہ نواز شریف عدالت پیش نہ ہوئے ۔ نواز شریف کی غیر حاضری پر انہیں دوبارہ نوٹس جاری کر دیا گیا ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جو متاثرین ہیں ان کودوبارہ نوٹس جاری کردئے ہیں ، اگر وہ آئیں گے توفریق بنا لیا جائے گا ۔ کوئی نہیں آیا تویکطرفہ فیصلہ دے دیں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ سابق وزیراعظم نوازشریف خود آئے نہ ان کی جانب سے کوئی نمائندہ پیش ہواجبکہ جہانگیر ترین پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ہم لوگوں کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں ۔ متاثرین عدالت میں آکر فریق بنیں۔ ہم نے نوازشریف کو بھی اسی لئے نوٹس بھیجا ۔ کوئی آنا چاہتا ہے تو آئے نہیں آنا چاہتا تو نہ آئے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آئین میں کوئی چیز مسنگ ہے توہم تشریح کرسکتے ہیں یا پارلیمنٹ ، اسے دیکھنا ہوگا۔ ہمارے عوامی نوٹس کومیڈیا بار بار چلائے،  تاکہ متاثرہ فریق عدالت پہنچے۔

بابراعوان کا کہنا تھا کہ کسی قانون میں اچھے برے کردار کی کوئی تعریف نہیں ، جس پر چیف جسٹس نے استفسارکی کہ کیا نظریہ پاکستان کی مخالفت کرنے والے بھی نا اہل ہوسکتے ہیں؟۔

 بابر اعوان نے کہا کہ پارلیمنٹ نے آرٹیکل 62میں کبھی تبدیلی نہیں کی ، چیف جسٹس نے کہا  پارلیمنٹ نے ترمیم نہیں کی تو اس کا مطلب ہے آرٹیکل 62 پر پارلیمنٹ رضامند ہے۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ کیا نااہلی ایک ٹرم کیلئے ہوگی یاتاحیات ؟۔  اگر نااہلی تاحیات ہوگی توسیاسی مستقبل ختم ہوجائے گا اور اگر نااہلی تاحیات نہیں ہوتو الیکشن لڑنااس کاحق ہے۔

بابراعوان نے استدعا کی کہ اٹارنی جنرل کو بھی عدالتی معاونت کیلئے نوٹس جاری کریں ۔  سپریم کورٹ نے نوازشریف کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے منیر اے ملک اور علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

ثمینہ خاور حیات کے وکیل طارق محمود کے دلائل پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کیا آپ یہ تو نہیں کہہ رہے کہ کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے؟۔

  جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کرنا جرم ہے، کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔