Saturday, January 22, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

نااہلی کیس : سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین سے پانچ سوالات کا جواب طلب کر لیا

نااہلی کیس : سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین سے پانچ سوالات کا جواب طلب کر لیا
July 26, 2017

اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین سے آف شور کمپنیوں اور تحائف کی تفصیلات مانگ لیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ اگر کوئی شخص دامن صاف کرنے کے لیے رقم واپس کردے تو وہ صحیح معنی میں صادق ہے۔ مزیدآف شور کمپنی کب اور کیسے بنائی گئی ، کمپنی کا قانونی فائدہ اٹھانے والا مالک کون ہے، آف شور کمپنی کتنے میں بنی، کمپنی بنانے کے لیے رقم بیرون ملک کیسے منتقل ہوئی، سپریم کورٹ نے پانچ سوالات کا جواب جہانگیر ترین سے طلب کر لیا۔

سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کسی پارلیمنٹرین کے خلاف کوئی کیس متعلقہ فورم کے بغیر براہ راست سپریم کورٹ میں آسکتا ہے؟ آج جہانگیر ترین کا کیس ہے۔کل کسی اور پارلیمنٹرین کا مقدمہ آجائے گا۔ اس سلسلے کو کہیں جاکر رکنا چاہیے۔

وکیل حنیف عباسی نے کہا کہ یہ پاناما کیس سے شروع ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں پاناما کیس کے تناظر میں کوئی درخواست براہ راست سپریم کورٹ میں سنی جاسکتی ہے۔ وکیل حنیف عباسی نے کہا جہانگیر ترین حلقہ این اے 154 سے منتخب ہوئے، انھوں نے زرعی اراضی چھپائی۔ زرعی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ان کے خلاف 4 آئینی گراؤنڈز ہیں، وہ اثاثے ظاہر نہ کرنے پر صادق اور امین نہیں۔ جسٹس عطا بندیال نے کہاکہ کہ پاناما سکینڈل میں کتنے پارلیمنٹرین کا نام ہے؟ وکیل نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام پاناما سکینڈل میں آیا ہے۔دیگر پارلیمنٹرین کا علم نہیں۔

۔چیف جسٹس نےریمارکس میں کہا کہ اگر کوئی شخص دامن صاف کرنے کے لیے رقم واپس کردے تو وہ صحیح معنی میں صادق ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ بچوں کو تحائف دینے میں غیر قانونی کیا ہے؟۔جس پر وکیل حنیف عباسی نے کہا کہ یہی تو بے نامی جائیداد بنانے کا ایک طریقہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ بچوں کو تحفے میں دئے گئے پیسے سے کمپنی بنائی،باپ کو ظاہر کرنا ضروری ہے۔  چیف جسٹس نے اسفسار کیا کہ شائنی آف شور کمپنی کہاں رجسٹرڈ ہےِ؟ وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ ٹرسٹ ہے، جہانگیر ترین کا براہ راست تعلق نہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ٹرسٹ کہاں بنا ہے، اسکی کوئی ٹرسٹ ڈیڈ بھی ہو گی۔کتنی رقم سے یہ ٹرسٹ بنایا گیا، یہ بھی بتایا جائے۔ وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ وہ کل عدالت کو تمام سوالوں کے جواب دینگے۔ کیس کی سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کردی  گئی۔