Wednesday, December 7, 2022

نائنٹی ٹو نیوز نے اےآئی جی اشعر حمید کی اچانک موت کا معاملہ بےنقاب کردیا

نائنٹی ٹو نیوز نے اےآئی جی  اشعر حمید کی اچانک موت کا معاملہ بےنقاب کردیا
لاہور(92نیوز)نائنٹی ٹو نیوز کے پروگرام اندھیر نگری نے اشعر حمید چودھری اےآئی جی   آپریشن کی اچانک موت کا معاملہ بے نقاب کر دیا ۔۔ رپورٹ میں ہارٹ اٹیک کواشعر حمید چودھری کی موت کی وجہ قرار دے کر معاملہ ٹھپ کر دیا گیا  جبکہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ   میں اُن کی موت کی کوئی وجہ بتائی ہی نہیں گئی ۔اُن کے اہلخانہ تذبذب کا شکار ہیں اور اعلیٰ حکام سے انصاف کے بھی طلب گار ہیں تفصیلات کےمطابق  نائینٹی ٹو نیوز کے پورگرام اندھیرنگری میں اشعر حمید چودھری کی موت کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے لائے گئے ہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ اور اہلخانہ کو فراہم کی گئی معلومات میں کئی تضادات پائے جاتے ہیں۔ پہلا تضاد یہ کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کا وقت سات بج کر باون منٹ بتایا گیا جبکہ اُن   کی موت دن بارہ بجے سے دوبجے کے درمیان ہوئی۔ دوسرا تضاد یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کرنے والے میڈیکل بورڈ کو پولیس کی طرف سے کسی طرح کی معلومات فراہم نہیں کی گئی جبکہ جبکہ اُن کے چہرے پر تشدد کے نشانات تھے ۔ تیسرا تضاد یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اُن کی موت کی وجہ سرے سے بیان ہی نہیں کی گئی ہے جبکہ دل بھی ٹھیک تھا ۔ اشعر حمید چودھری کی والدہ اوردیگر اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں زبانی بتایا گیا کہ اُن کے بیٹے کی موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہے جبکہ وہ تو مکمل تندرست تھے ۔ سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ شریف کا اشعر حمید چودھری کے خاندان سے قریبی اور گہرا تعلق ہے مگر وہ بے بسی کی تصویر بنے شریف برادران سے گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔  وفاقی دارالحکومت میں دن دیہاڑے ایک اعلیٰ پولیس افسرکی اچانک موت کی ازسر نو تحقیقات ہونی چاہیں تاکہ اُن کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے۔