Monday, January 30, 2023

نئی گاج ڈیم تعمیر کیس ، سپریم کورٹ سندھ حکومت کے رویے پر برہم

نئی گاج ڈیم تعمیر کیس ، سپریم کورٹ سندھ حکومت کے رویے پر برہم
اسلام آباد ( 92 نیوز) نئی گاج ڈیم تعمیر کیس میں سندھ حکومت کے رویے پر سپریم کورٹ برہم ہو گئی ، صوبائی چیف سیکرٹری کو23 مئی کو طلب کرلیا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے معلوم ہے سندھ حکومت کون سے اضلاع اور افراد کی زمینوں کو سیراب کرنا چاہتی ہے ،  چیف سیکریٹری آکر کہہ دیں کہ دادو کے عوام کو پانی کی ضرورت نہیں، پھر دیکھیں گے۔ عدالت اب خود کوئی بوجھ نہیں اٹھائےگی۔ سپریم کورٹ میں نئی گاج ڈیم تعمیر کیس کی سماعت  ہوئی ، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 26 ارب روپے کا منصوبہ تھا ، 46 ارب تک پہنچ چکا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہر گزرتے دن کیساتھ ڈیم کی لاگت بڑھ رہی ہے۔ ، سندھ حکومت ایکنک کا فیصلہ تسلیم نہیں کر رہی   پھر کہے گی پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں۔ عدالتی استفسار پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ نئی گاج ڈیم ضلع دادو میں بنےگا اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ صوبائی حکومت جن اضلاع اور افراد کی زمینیں سیراب کرنا چاہتی ہے  سب معلوم ہے ، کیا حکومت یہی چاہتی ہے کہ عدالت میں نام لیں؟ ، صوبائی حکومت چاہتی ہے باقی عوام چاہے مرجائے فرق نہیں پڑتا۔ جسٹس عظمت سعید نے مزید کہا کہ صوبائی چیف سیکرٹری بیان دیدیں کہ دادو کے عوام کو پانی ضرورت نہیں ، پھر ممکن ہے عدالت ڈیم کی تعمیر سے متعلق اپنے احکامات پر نظرثانی کر لے ، عدالت اب خود کوئی بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔