Tuesday, October 4, 2022

نئی دہلی فسادات باقاعدہ منصوبہ بندی سے کئے گئے

نئی دہلی فسادات باقاعدہ منصوبہ بندی سے کئے گئے
نئی دہلی ( 92 نیوز) نئی دہلی فسادات باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیے گئے،مودی کی انتہاپسندانہ سوچ اور ہندتوا نظریے کی حمایت بے نقاب ہوگئی۔ چیئرمین دہلی کمیشن برائے اقلیت ظفرالاسلام خان کے بھارتی نیوز ویب سائٹ دی وائر سے گفتگو کے دوران تہلکہ خیز انکشافات کئے ، کہا فسادات کیلئے چوبیس گھنٹے قبل ہی ہندو غنڈے شمال مشرقی دہلی پہنچ گئے تھےجن کی تعداد پندرہ سو سے دو ہزار کے قریب تھی۔ ظفرالاسلام نے دہلی فسادات میں پولیس کے کردار کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ، ان کا کہنا تھا کہ قتل عام کے دوران پولیس کی تعداد کم سے کم رکھی گئی تھی جو غنڈوں اور قاتلوں کی حوصلہ افزائی کررہی تھی۔ بھارتی نیوز ویب سائٹ نے نسل کشی میں ملوث قاتل غنڈوں کو بے نقاب کیاجو نئی دہلی پولیس کو آج بھی نظر نہیں آتے ، ویب سائٹ نے تین مسلمانوں کے قاتل نشانت کمار کا ذکر کیا جو اپنے گھناؤنے اقدام پر پشیمان نہیں بلکہ بہت خوش ہے اس نے برملا اعتراف کیا کہ ایک آہنی راڈ اور اس کے آگے لگی چھُری سے مسلح تھا۔ بھارتی ویب سائٹ نے ایک اور قاتل کا بھی ذکر کیا جو دہلی کا ٹیکسی ڈرائیور تھا جس کا کہنا تھا اسکے والد نے 1984 میں سکھوں کو مار کر اپنی تلوار کو خون پلایا ، اور آج وہی تلوار اُس نے مسلمانوں کے خون سے رنگ دی۔ بھارتی میڈیا نے ان قاتلوں کو بے نقاب بھی کیا ان سے بات بھی کی مگر نئی دہلی پولیس کو آج بھی مجرم کہیں نہیں مل رہے ، 369 ایف آئی آر درج ہوئیں اور 33 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا مگر کسی پر بھی قتل کی دفعہ عائد نہیں کی۔