Friday, September 30, 2022

نئی حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیمی بل 2017 منظور

نئی حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیمی بل 2017 منظور

اسلام آباد ( 92 نیوز ) قومی اسمبلی نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیمی بل 2017 کی منظوری دے دی ۔ بل کے تحت سیکشن 7سی اور 7 بی کو مزید موثر بنایا جائے گا ۔ بل وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا ۔ زاہد حامد نے کہا کہ ختم نبوت کی ترمیمی بل میں قادیانی غیر مسلم برقرار رہیں گے ۔ووٹر لسٹ بھی الگ ہوگی ۔قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات بل متفقہ طور پرمنظور کر لیا گیا۔ ۔ ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ اصل شکل میں بحال کردیاگیا۔ وزیرقانون زاہد حامد نے کہا کہ 7 سی کے تحت انتخابی فارم میں قادیانی احمدی اور لاہوری گروپ غیر مسلم ہی رہیں گے ۔ 7 سی کے مطابق قادیانی مسلمانوں کے ساتھ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہوں گے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں دہشتگردی کے دوران شہید ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔ وفاقی وزیر قانون نے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل پیش کیا جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظورکرلیا گیا ۔
وزیرقانون زاہد حامد نےایوان کوبتایا کہ 7 سی کے تحت انتخابی فارم میں قادیانی اور لاہوری گروپ غیر مسلم ہی رہیں گے۔ 7 سی کے مطابق قادیانی مسلمانوں کے ساتھ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہوں گے۔ سیون سی اور سیون بی کے قانون کو مزید موثر بنا رہے ہیں ۔ ترمیمی بل کے تحت اگر کوئی شخص کسی ووٹر پر غیر مسلم ہونے کا اعتراض کرئے گا تو اس ووٹر کو پندرہ روز میں وضاحت کرنا ہو گئی ورنہ اسکو قادیانی تصور کیا جائے گا۔
زاہد حامد کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے ۔وہ عاشق رسولؐ ہیں ۔ نبیؐ کی حرمت پر جان بھی قربان کرنے لئے تیار ہیں ۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں ۔ختم نبوت پر اتنا ہی ایمان ہے جتنا باقی قوم کا ہے۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ ناموس رسالتؐ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ۔ بتایا جائے یہ کام کس نے کیا تھا ۔ اجلاس کے دوران شیخ رشید اوراحسن اقبال کے درمیان شدید تلخ کلامی بھی ہوئی اور سپیکر نے شیخ رشید کا مائیک بند کر دیا۔