Sunday, March 3, 2024

میٹروٹرین کیس ، عدالت نے ایل ڈی اے کو وکیل کو کل تک دلائل مکمل کرنےکی ہدایت کردی

میٹروٹرین کیس ، عدالت نے ایل ڈی اے کو وکیل کو کل تک دلائل مکمل کرنےکی ہدایت کردی
April 4, 2017
اسلام آباد(92نیوز)سپریم کورٹ میں اورنج لائین ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت، جسٹس شیخ عظمت سعیدنے ریمارکس میں کہا کہ میٹرو کے چلنے سے لندن ٹاور نہیں گرا۔ جسٹس اعجاز افضل کہتے ہیں کہ منصوبے کی تکمیل میں قانونی تقاضوں کا پورا کیا جانا لازم ہے۔ عدالت نے ایل ڈی اے کے وکیل کو کل تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے اورنج ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کی،ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے  دلائل میں موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے سات ماہرین کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ پاکستانی ماہرین کی رپورٹ قابل قبول نہیں تو بھارتی ماہرین کو لایا جائے، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ جن شاہراوں پر میٹرو بن رہی ہے وہاں ٹریفک کا دباؤ پہلے ہی بہت زیادہ ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ میٹرو سے پیدا ہونے والی تھرتھراہٹ کا جائزہ سائنٹیفک بنیادوں پر لیا گیا؟جس پر مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا زیر زمین مٹی لیکر تھر تھراہٹ کا سائنٹیفک جائزہ لیا گیا، میٹرو کے چلنے سے تین ملی میٹر فی سیکنڈ تھر تھراہٹ پیدا ہو گی جبکہ تھرتھراہٹ کا یہ معیار نہ ہونے کے برابر ہے،جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے دنیا کے بیشتر شہروں میں میٹرو ٹرین 1863 سے چل رہی ہے، وہاں کبھی میٹرو سے کسی بلڈنگ یا تاریخی عمارت کونقصان نہیں پہنچا، ریلوے سٹیشن کے قریب 18 ویں صدی سے قائم کمروں کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔ کمرے آج بھی قائم ہیں۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وکیل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ منصوبے کی نگرانی کیلئے مانیٹرنگ ٹیم کی موجودگی این او سی کا حصہ ہے،انکا کہنا تھا مستقبل میں ٹرین سے کوئی نقصان ہوا تو اس کی مرمت کی جائے گی، ایل ڈی اے کے وکیل کو ساڑھے گیارہ بجے تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی گئی ۔