Friday, October 7, 2022

مہنگائی کی اصل وجہ ذخیرہ اندوزی ہے، اس کا سدباب کرنا ہو گا، وزیراعظم

مہنگائی کی اصل وجہ ذخیرہ اندوزی ہے، اس کا سدباب کرنا ہو گا، وزیراعظم
اسلام آباد (92 نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا مہنگائی کی اصل وجہ ذخیرہ اندوزی ہے،اس کا سدباب کرنا ہو گا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں مہنگائی ، کورونا اور اپوزیشن کے جلسوں میں خواتین بارے بیانات پر بات چیت ہوئی ش۔ وزراء کی اکثریت نے اشیائے ضروریہ مہنگی ہونے پر تحفظات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے چینی اور آٹا کی قیمتیں کنٹرول نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گندم وافر مقدار میں ہے تو آٹا کی قیمتیں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟ چینی کا اسٹاک موجود ہونے کی رپورٹس کے باوجود قیمت کم کیوں نہیں؟ وزیراعظم نے وزراء کو غفلت برتنے والوں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا مہنگائی کے خاتمے کو ہی اپنا پہلا مشن بنائیں۔ کابینہ اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے غیر سیاسی خواتین کو ہدف تنقید بنانے پر کابینہ میں بحث  ہوئی ۔ وزیراعظم نے کابینہ اراکین کو سیاسی خواتین کے حوالے سے بھی محتاط انداز کی ہدایت کر دی۔ سوات میں پی ٹی آئی کا جلسہ کرنے  کے فیصلے سے  کابینہ کو آگاہ  کیا گیا  جس پر  اسد عمر نے کہا  جلسہ ضرور کریں لیکن ایس او پیز پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ وزیر اعظم ہاوس سے جاری  اعلامیہ کے  مطابق   وفاقی کابینہ نے  گن  اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کی عارضی مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری  دے دی ۔ سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی (لمیٹڈ) کو وزارتِ منصوبہ بندی، ڈویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے تحت رکھنے کی بھی  منظوری دی گئی۔ سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکیٹو کے عہدے کے اضافی چارج  کی مدت توسیع کی بھی  منظوری  دی گئی ۔ وفاقی کابینہ  نے  اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 اکتوبر 2020 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں، کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے فیصلوں اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کر دی ۔ کابینہ نے توانائی اجلاس میں فرنس آئل کی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے لئے گئے فیصلے کی  بھی توثیق کر دی گئی ۔ وفاقی  کابینہ  نے 98 نئے  اووسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر لائسنس کے اجراء اور 18 لائسنس واپس لینے کی بھی  منظوری دی۔ ادھر ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کیلئے ٹائیگر فورس کو پہلا ٹاسک سونپ دیا گیا۔ پائلٹ پراجیکٹ اسلام آباد سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اسلام آباد کی 9 ہزار دکانوں کی مانیٹرنگ ہو گی۔ ٹائیگر فورس کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مل کر نشاندہی کرے گی۔ شہر کی تمام دکانوں پر ریٹ لسٹ اور اوورچارجنگ کی بھی مانیٹرنگ ہو گی۔ ٹائیگر فورس ضرورت سے زائد اسٹاک یا ذخیرہ اندوزی کی فوری نشاندہی کرے گی جس پر ضلعی انتظامیہ فوری حرکت میں آئے گی۔ کارروائیوں کی رپورٹ براہ راست وزیراعظم کو پیش کی جائیگی۔ ریٹ لسٹ آویزاں نہ کرنے یا اوورچارجنگ کی صورت میں دکانداروں کو بھاری جرمانے ہوں گے۔