Friday, September 30, 2022

موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کا ایمنسٹی اسکیم اور ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ

موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کا ایمنسٹی اسکیم اور ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ
کراچی (92 نیوز) پاکستان کی سڑکوں پر دوڑتی ہوئی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں درد سر بن گئیں ہیں۔ آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اسمگل شدہ گاڑیوں کی روک تھام کیلئے ایمنسٹی اسکیم لانے اور امپورٹ پر عائد ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ کر دیا۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں جاپان یا دبئی سے آتی ہیں،جن میں ایس یو وی ایس سمیت دیگر مہنگی گاڑیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ قانونی طریقے سے گاڑیاں امپورٹ، ایکسپورٹ کرنے والے موٹر ڈیلرز کہتے ہیں ایمنسٹی اسکیم اور ٹیکسز میں کمی سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی روک تھام ہوگی، جس کی وجہ سے ہر سال حکومت کو اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ موٹر ڈیلرز نے کہا کہ پانچ سال پرانی گاڑیوں کی امپورٹ کھلنے سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی اسمگلنگ میں کمی، مقامی گاڑیوں کی خریداری پر اون منی کا خاتمہ ہو گا اور گاڑیاں سستی ہو گی۔ مایہ ناز گاڑیوں کی ویب سائٹس پر بھی ان گاڑیوں کے اشتہارات نظر آتے ہیں، جہاں بغیر کسی ڈر و خوف بیچنے والوں نے موبائل فونز بھی ڈال رکھے ہیں۔ نان کسٹم پیڈ گاڑی چلانے کی زیادہ سے زیادہ سزا گاڑی کو تحویل میں لینا ہے،اسی لئے لوگ خوشی خوشی یہ گاڑیاں خرید لیتے ہیں۔