Wednesday, February 28, 2024

موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے اور دہشتگرد بھی روایتی ہتھیاروں کیساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا سہارالئے ہوئے ہیں

موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے اور دہشتگرد بھی روایتی ہتھیاروں کیساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا سہارالئے ہوئے ہیں
April 17, 2017
لاہور(92نیوز)موجودہ دور میں جس طر ح دوسرے شعبوں میں ترقی ہوئی ہے اسی طرح دور جدید کی جنگوں میں بھی جدت آئی ہے آج کل دنیا کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردوں نے بھی جنگ لڑنے کے لئے روائتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے جس کے لئے وہ سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا داعش کا اہم ہتھیار بن گیا ہے تفصیلات کے مطابق  ذرا ماضی میں جائیں جب طالبان کو پیغام پہچانے کے لئے عام میڈیا جبکہ  القاعدہ کو اپنے پروپیگنڈے کے لئے مین اسٹریم میڈیا کا سہارا لینا پڑتا تھا ان کوئی ویڈیو یوٹیوب پراپ لوڈ کرنا پڑجاتی تومصیبت پڑجاتی مگر آج سوشل میڈیا کا جدید دور ہے دوسرا شدت پسند ان پڑھ نہیں بلکہ انتہائی پڑھے لکھے لوگ ہیں جو سوشل میڈیا کا استعمال بڑی مہارت سے کرتے ہیں۔ داعش نظریاتی، علمی اور نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے بڑے خوش کن تصورات، خیالات اور دلائل سے نوجوان نسل کو متاثر کررہے ہیں اوراپنے مقاصد کے حصول کے لئے وہ آن لائن پراپیگنڈہ اور بھرتیاں بھی کررہی ہے یہ تنظیم علاقوں پر قبضے کیلئے اکیس  ویں صدی کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے ۔ رپورٹس کے مطابق ۔داعش سوشل میڈیا کے ذریعے اب تک تیس ہزار غیر ملکیوں کو قائل کرچکا ہے جس میں اچھی حاصی تعداد خواتین  کی بھی ہےان میں سے 4500 کا تعلق شمالی امریکہ اور یورپ سے ہے۔ 80 سے 90 ممالک کے غیرملکی جنگجو داعش میں شامل ہیں۔ انٹرنیٹ کمپنیاں داعش کے پراپیگنڈا اکاؤنٹس بند کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہیں۔ دوہزار پندرہ میں داعش کے شدت پسبدوں نے نیروبی کے شاپنگ مال پر حملہ کیاحملے کے دوران ہی ایک شدت پسند نے لائیو اسٹریمنگ اور ٹوٹینگ شروع کردی۔ ٹویٹر انتظامیہ نے اس کا اکاؤنٹ فورابند کردیا ۔لیکن شدت پسند کا اکاؤنٹ ابھی بند ہوا نہیں تھا کہ ایک اور اکاؤنٹ ٹویٹر پر بن گیا۔۔۔۔وہ بند ہوا تو داعش نے چار نئے  کاؤنٹس بنا دئیے۔۔۔ داعش اور ٹویٹر کے درمیان یہ کھیل کئی دن تک چلا لیکن  وہ داعش کے پراپیگنڈا اکاؤنٹس بند نہ کرپائے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کی ایک اہم مثال برطانیہ کی تین لڑکیوں کی ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے ہی داعش کے جال میں پھنسی اور شام جا پہنچیں۔ پندرہ سالہ عمارہ عباس۔ سولہ سالہ خدیجہ سلطان اور پندرہ سالہ شمیمہ بس کے ذریعےداعش میں شامل ہونے کے لئے ترکی سے شام گئی تھیں۔ تینوں لڑکیاں مشرقی لندن کی بیتھل گرین اکیڈمی کی طالبہ تھیں چند ماہ قبل ان کی ایک ساتھی شام چلیں گئی تھیں جس پرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان تینوں سے بھی پوچھ گچھ کی تھیں مگر انہوں نے خفیہ اداروں کو بھنک بھی نہ لگنے دی ہے وہ اس سے رابطے میں ہیں اور نہ ہی یہ شک ہونے دیا کہ وہ داعش کے پراپیگنڈا کو فالو کررہی ہیں۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ تینوں لڑکیاں سوشل میڈیا کے ذریعے داعش کی جانب راغب ہوئیں اور شام گئی تھیں۔ تینوں کے پاس اسمارٹ فونز اور پرسنل کمپیوٹرز تھے جس پر وہ ہر وقت آن لائن رہتی تھیں۔لیکن ان کے والدین کو پتہ نہیں تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر ہر وقت کیا کرتی رہتی ہیں۔   دوسری مثال آسٹریلیا کی ہے آسٹریلیا میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس وقت حرکت میں آئے جب سولہ اور سترہ سال کے دولڑکوں کو شام جاتے ہوئے سڈنی ائیر پورٹ پر پکڑا گیا اور پتہ چلا کہ وہ داعش کے سوشل میڈیا ونگ سے متاثر ہوکر شام جارہےتھے۔ مزید تحقیقات سے پتہ چلا کہ ال آسٹریلوی  نامی فیس بک پیچ ہے جو آسٹریلیا میں موجود داعش چلاتا ہےجس پر دنیا بھر سے لوگ آن لائن ہوتے ہیں اسی وجہ سے آسٹریلوی حکام نےسینکڑوں پاسیورٹس بھی ضبط کرلئے تھے کہ کہیں یہ لوگ شام نہ چلیں جائیں۔ امریکہ بھی داعش کی پہنچ سے دور نہیں جنوری دوہزار پندرہ میں شانون مورین کونلے نامی انیس سالہ لڑکی کو داعش کے ساتھ تعلق کے شبے میں قید ہوئی تھی۔ شانون نے ایف بی آئی کو بتایا کہ اس کا دوہزار چودہ میں اکتیس سالہ تیونسی شخص جو داعش کا شدت پسند تھا سے رابطہ ہوا تھا۔۔۔پھر مسلسل رابطہ رہنے کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ اسے شام میں جاکر داعش میں شمولیت اختیار کرلینی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر داعش کا پروپیگنڈا ونگ نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو ٹارگٹ کرتا ہے اگر کسی شدت پسند سے نئے صارف کی گفتگو ہوتی ہے تو شروع شروع میں بہت ہی محتاط انداز میں اعتماد بحال کیا جاتا ہے پھراسے اس تعلق کی اہمیت بتا کر اسے خفیہ رکھنے کا کہا جاتا ہےجب وہ پوری طرح مائل ہوجاتا ہے تو پھراس کے سامنے داعش کا ایجنڈا رکھا جاتا ہے اور کسی کو کان و کان خبر بھی نہیں ہوتی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گھر بیٹھے اپنے والدین کے سامنے بیٹھ کرسوشل میڈیا پر آن لائن ہوتی ہیں جبکہ ان کے والدین یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ اسکول یا کالج کا کام کررہے ہیں انہیں کیا پتہ کہ ان کے بچے سمندر پار کس سے محو گفتگو ہیں اور کس ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ دوسری  ایک  اوررپورٹ کے مطابق داعش کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک دن میں ویڈیوز ٹویٹ تجزیوں اور تصاویر کی شکل میں دولاکھ کے قریب پوسٹیں اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ داعش کا پروپیگنڈا ونگ الحیات ہالی وڈ کی ایکشن فلموں کے سین کی ڈبنگ کرکے اسے سوشل میڈیا پر نوجوان نسل کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔