Monday, December 5, 2022

موبائل فون کارڈز پر اضافی ٹیکس کٹوتی ، سپریم کورٹ نے سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل دے دیا

موبائل فون کارڈز پر اضافی ٹیکس کٹوتی ، سپریم کورٹ نے سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل دے دیا

 اسلام آباد (92 نیوز) موبائل فون کارڈز پر اضافی ٹیکس کٹوتی کے کیس میں سپریم کورٹ نے سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل دے دیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 15 اپریل کو کیس کی سماعت کریگا

 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی بینچ کا حصہ ہوںگے۔ اٹارنی جنرل ، صوبائی ایڈووکیٹ جنرنلز ، موبائل کمپنیز اور ایف بی آر کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں۔

 قبل ازیں عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے موبائل فون کالز پر گزشتہ ایک سال کے وصول کئے گئے ٹیکسز کی تفصیلات طلب کیں تھیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کا کیا کام ہے ، کیا پارلیمنٹ کا کام صرف ٹیکس اکٹھے کرنا ہے۔

 اٹارنی جنرل نے ٹیکسز کے خلاف عدالتی کارروائی کی مخالفت کر دی تھی، موقف اختیار کیا تھا کہ ٹیکس کا معاملہ بنیادی حقوق اور مفاد عامہ میں نہیں آتا۔

 پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا تھا ٹیکس معطل ہونے سے 80 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا نہ ہو سکا۔

 جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے تھے کہ نائی، پلمبر، ریڑھی والا اور نان والا موبائل ٹیکس کیونکر دے ، حکومت کیسے یہ طے کرے گی کہ کون ٹیکس ادا کرے گا کون نہیں؟، موبائل ٹیکس وہی دے گا جو ٹیکس دہندہ ہوگا ،  جو شخص مطلوبہ معیار پر ہی پورا نہیں اترتا وہ ودہولڈنگ ٹیکس کیوں ادا کرے۔