Tuesday, October 4, 2022

موبائل فون ٹیکنالوجی میں تیزرفتار ترقی جی ایس ایم کیلئے خطرے کی گھنٹی

موبائل فون ٹیکنالوجی میں تیزرفتار ترقی جی ایس ایم کیلئے خطرے کی گھنٹی
لاہور (ویب ڈیسک) سائنس کی دنیا پر گہری نظر رکھنے والے کہتے ہیں موبائل فون ٹیکنالوجی میں ہونے والی ہوشربا ترقی دیگر سائنسی شعبوں میں ہونے والی ترقی سے کئی گنا زیادہ ہے۔ روز بروز ہونے والی تیزرفتار ترقی کی بدولت پرانی ٹیکنالوجی متروک ہوتی جا رہی ہے اور جو موجودہ استعمال ہو رہی ہے وہ بھی مستقبل قریب میں معدوم ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موبائل آپریٹنگ کمپنیاں اپنی سروس کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنے جی ایس ایم نیٹ ورک بند کر رہی ہیں جس سے اس نیٹ ورک پر چلنے والے تمام فون بیک وقت ناکارہ ہو جائیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جی ایس ایم نیٹ ورک پر چلنے والے موبائل فونز کی تعداد بے حد کم ہے تاہم ترقی پذیر ممالک میں ایسے فون بڑی تعداد میں استعمال ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال آسٹریلیا کی موبائل آپریٹنگ کمپنی Telstra نے جی ایس ایم نیٹ ورک بند کرنے کا اعلان کیا تو اس وقت ان کے پاس اس نیٹ ورک پر چلنے والے موبائل فونز کی تعداد صرف ایک فیصد تھی۔ پاکستان ،بھارت، سری لنکا اور بنگلا دیش جیسے ممالک میں یہ تعداد خاصی زیادہ ہے۔ فی الوقت پاکستانی ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے جی ایس ایم نیٹ ورکس بند کرنے کے کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا مگر جلد یا بدیر ان نیٹ ورکس کو بھی باقی دنیا کی پیروی کرتے ہوئے جی ایس ایم سروس ختم کرنا پڑے گی۔ نیٹ ورکس بند کرنے کے پیچھے تکنیکی اور مالی مصلحتیں کارفرما ہیں۔ جب یہ نیٹ ورک بند ہو جائیں گے تو ان کے لیے مخصوص فریکوئنسی سپیکٹرم تھری جی اور فور جی نیٹ ورکس کے لیے استعمال کی جا سکے گی۔ یوں تھری جی یا فور جی نیٹ ورکس زیادہ صارفین کو سروس فراہم کرسکیں گے اور انہیں پہلے سے زیادہ مالی فائدہ پہنچے گا۔