Thursday, September 29, 2022

منشیات برآمدگی کیس، رانا ثناء کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روزہ توسیع

منشیات برآمدگی کیس، رانا ثناء کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روزہ توسیع
لاہور (92 نیوز) منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی گئی۔ انسداد منشیات عدالت نے رانا ثنا کو 16 نومبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت میں تفتیشی افسر کا کال ڈیٹا ریکارڈ پیش کر دیا گیا، ادھر وفاقی حکومت نے سیشن جج شاکر حسین کو انسداد منشیات عدالت کا جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی، نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ رانا ثنا اللہ کے خلاف یکم جولائی کو منشیات اسمگلنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 18 اکتوبر کو ہونے والی سماعت پر ڈیوٹی جج خالد بشیر نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع کی تھی۔ گذشتہ سماعت پر رانا ثناء اللہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ ہمارا مطمہ نظر ہے کہ ایک کیس میں عموماً ایک پراسیکیوٹر ہوتا ہے۔ میرے موکل نے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو گن پوائنٹ پر راوی ٹول پلازہ سے تھانے لیجانے کا بیان دیا۔ ہمیں رانا ثناء اللہ کے موبائل فون کال کا ڈیٹا فراہم نہیں کیا جا رہا، عدالت متعلقہ حکام کو راوی ٹول پلازہ سے اے این ایف تھانے کا ریکارڈ فراہمی کرنے کے علاوہ تفتیشی افسر کا موبائل ڈیٹا  فراہم کرنے کا حکم دے۔ اے این ایف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پہلے ملزم کا سی ڈی آر اور اب تفتیشی کے فون کا ریکارڈ طلب کیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقدمہ سیدھا ہے۔ عدالت ہماری درخواست کے مطابق فرد جرم عائد کر کے روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل شروع کرنے کا حکم دے۔ دوران سماعت رانا ثناء اللہ کے مبینہ کارکن کی جانب سے عدالت میں ویڈیو ریکارڈنگ کا انکشاف ہوا جس پر پراسکیوشن نےاعتراض کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون کمرہ عدالت میں آن کیسے ہوئے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کے وکلاء کا کہنا تھا کہ یہ وکیل ہمارے ساتھ نہیں ہیں، یہ لوگ پراسکیوشن کی طرف سے آئے ہیں جبکہ ویڈیو بنانے والا شخص نے عدالت کو بتایا کہ وہ رانا ثناء اللہ کا ساتھی ہے جس پر معزز جج کی جانب سے ایسا کرنے سے منع کیا گیا۔