Friday, September 30, 2022

ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا، معیشت کا پہیہ بھی چلانا ہے، شبلی فراز

ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا، معیشت کا پہیہ بھی چلانا ہے، شبلی فراز
اسلام آباد (92 نیوز) وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز کہتے ہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے مکمل لاک ڈاؤن ہو، ہمارا ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا، لاک ڈاؤن ایسا ہونا چاہئے جس سے معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے، ہر صوبہ ہر انڈسٹری کے حوالے سے ایس او پیز وضع کرے۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے مزدوروں کا خیال رکھتے ہوئے تعمیراتی شعبے کو کھولا۔ ہماری سوچ کا محور مزدوروں کی فلاح ہے، ہمیں اس ملک میں ایسے طبقوں کو تحفظ دینا ہوگا۔ وزیر اعظم نے خود کو تقاریر تک محدود نہیں رکھا، عملی اقدامات کیے۔ حکومت میڈیا ورکرز کا تحفظ کرے گی۔ ہم نے انڈسٹری کو دو فیز میں کھولنے کا فیز کیا ہے۔ دو مرحلوں میں دکانیں کھولی جائیں گی۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پناہ گاہ کی صورت مزدوروں کی رہائش کا بندوبست کیا اور انہیں ریاست کا مہمان بنایا، حکومت نے مزدوروں کیلئے صحت کارڈ کا اجرا کیا، وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے کہا آپ ہمارے مزدوروں کا خیال رکھیں، کورونا کے بعد سب سے زیادہ بوجھ مزدور طبقے پر پڑا۔ کہ احساس پروگرام کے تحت رقوم مستحقین تک پہنچائی گئیں، وزیراعظم کا ویژن ہے کوئی غریب بھوکا نہ سوئے، جتنے بھی اقدامات اٹھائے وہ مزدور کی فلاح کیلئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن پر حکومت پر تنقید کی گئی، کورونا وباء کو ہلکا نہیں لے سکتے، مکمل لاک ڈاؤن میں چھوٹا طبقہ ہی متاثر ہوگا، کورونا وباء کو ہلکا نہیں لے سکتے، ایک طریقہ ہے سب کچھ بند کردیں اور گھروں میں بیٹھ جائیں، مکمل لاک ڈاؤن کا فارمولا کئی ملکوں میں فیل ہوگیا ہے، ہر صوبہ انڈسٹری کے حوالے سے ایس او پیز وضع کرے، لاک ڈاؤن ایسا ہونا چاہئے جس سے معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے۔ وزیر اطلاعات نے عوام سے درخواست کی ہے کہ موجودہ صورتحال میں حفاظتی تدابیر پر عمل کریں، موجودہ صورتحال میں وزیراعظم کو نئی ٹیم کی ضرورت تھی، اور انہیں اپنی ٹیم تبدیل کرنے کا حق ہے، ہماری کسی کے ساتھ سیاسی دشمنی نہیں ہے، عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ اور ترویج کریں گے، بیرونی نیشنل سکیورٹی کا بھی خیال رکھنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ دور انفارمشین کا ہے، وزارت اطلاعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں گے، میں سیاست میں ہوں تو صرف عمران خان کی وجہ سے ہوں۔ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا اپوزیشن کا حق ہے، پاکستان اب وہ پاکستان نہیں جس میں 2 سیاسی جماعتیں تھیں، حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔