Friday, December 3, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

ملک اسحاق پر قتل کے 100مقدمات !!! کالعدم سپاہ صحابہ کو چھوڑ کر لشکرجھنگوی کی بنیاد رکھی !!! 2012ءمیں احمدلدھیانوی سے صلح ہو گئی

ملک اسحاق پر قتل کے 100مقدمات !!! کالعدم سپاہ صحابہ کو چھوڑ کر لشکرجھنگوی کی بنیاد رکھی !!! 2012ءمیں احمدلدھیانوی سے صلح ہو گئی
July 29, 2015
لاہور (92نیوز) ملک اسحاق کے خلاف قتل کے 100 سے زائد مقدمات درج تھے۔ رحیم یار خان میں گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ، علی پور میں مدارس اور مساجد کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کے سابق سربراہ ملک اسحاق کو امریکہ نے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا۔ سخت گیر مذہبی خیالات کے حامل ملک اسحاق نے کئی سال جیل کاٹی، نظر بند بھی رہے، سری لنکن ٹیم پر حملے کا بھی الزام لگا۔ مختلف جلسوں میں اشتعال انگیز تقاریر پر متعدد مرتبہ حوالات پہنچے۔ ملک اسحاق 1959ءکو رحیم یار خان میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک تعلیم کے بعد سخت گیر مذہبی شخصیت کے طور پر ابھرے، ابتدا میں والد کے ساتھ کپڑے کے کاروبار سے بھی وابستہ رہے۔ شدت پسند کارروائیوں کے بعد ملک اسحاق کو 1997ءمیں فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا۔ 14جولائی 2011ءکو 14 برس بعد سپریم کورٹ نے ضمانت کی درخواست منظور کر لی جس کے بعد ملک اسحاق کو سنٹرل جیل کوٹ لکھپت سے رہا کر دیا گیا۔ اس وقت کالعدم تنظیم کے رہنما کے وکیل قاضی مصباح الحسن نے اعتراف کیا کہ ملک اسحاق کے خلاف 44مقدمات تھے جن میں سے دو مقدمات میں ان کے اقبالی بیان پر سزا سنائی گئی تھی۔ 31اگست 2012ءکو لاہور کے ایک جلسے میں انتہائی اشتعال انگیز تقریر پر ملک اسحاق کو ایک مرتبہ پھر گرفتار کر لیا گیا۔ 11ستمبر 2012ءکو ملک اسحاق رہا ہوئے۔ ملک اسحاق ابتدا میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے ہی رکن تھے۔ کالعدم سپاہ صحابہ سے اختلاف کے بعد ایک نئی تنظیم کالعدم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی۔ 2012 ءمیں کالعدم سپاہ صحابہ میں قیادت کے معاملے پر اختلافات ختم ہوگئے اور تنظیم کے موجودہ سربراہ احمد لدھیانوی اور ملک اسحاق میں صلح کے بعد انہیں نائب صدر بنا دیا گیا۔ حال ہی میں ان پر سنگین کارروائیوں کے الزام میں مقدمات درج کر کے حراست میں لے لیا گیا۔ 14برس قبل کالعدم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھنے والے ملک اسحاق پر تقریبا 100 افراد کے مسلکی قتل اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کا بھی الزام تھا۔