Monday, November 28, 2022

ملک آئینی بحران سے گزر رہا ہے ، حکومت اپوزیشن کو لیکر چلے ، مصطفی کمال ‏

ملک آئینی بحران سے گزر رہا ہے ، حکومت اپوزیشن کو لیکر چلے ، مصطفی کمال ‏
کراچی ( 92 نیوز) چیئرمین پاک سر زمین پارٹی مصطفی کمال نے کہا کہ ملک اس وقت آئینی بحران سے گزر رہا ہے ، حکومت لچک دکھا کر اپوزیشن کو ساتھ لےکر چلے، وزیراعظم مودی سے بات کرنے کیلئے تیار ہیں مگر اپوزیشن سے نہیں ، ملک کا کوئی پرسان حال نہیں، طلباء یونینز کی بحالی آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونی چاہئے۔ ساحل کی سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ ریفرنس میں چیئرمین پاک سر زمین  پارٹی کے  رہنما مصطفی کمال  اور دیگر ملزم عدالت پیش ہوئے ، نیب کے تفتیشی افسر عبدالفتح عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، ملزم زین ملک کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی گئی ۔  عدالت نے سماعت 23  دسمبر تک ملتوی کردی۔ میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پاک سر زمین پارٹی کا کہنا تھا کہ  ملک اس وقت خطرناک آئینی بحران میں داخل ہوگیا ہے، چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب ہونا ہے،  وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر سے بات کر کے فیصلہ کریں کہ کسے منتخب کیا جائے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ  وزیر اعظم  اپوزیشن لیڈر سے بات نہیں کرنا چاہتے،  نریندر مودی سے بات کرنے کے لیے عمران خان ترس رہے ہیں، آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے لیے ایوان میں توسیع کی جائے،  آئین میں ترمیم پارلیمنٹ میں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کے پاس عوامی اکثریت نہیں ہے، اس صورتحال پر حکومت کو لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے،  ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ مناسب نہیں ہے،  حکومتی ارکان  اپوزیشن سے تیز و تند لہجے میں بات کر رہے ہیں، ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بیرون ممالک سے کون پیسہ لگائے گا؟۔ مصطفی کمال نے کہا کہ  زرداری صاحب کی طبیعت ناساز ہے تو انہیں ملک سے باہر لے کر جانا چاہیے،  بلاول صاحب انکا علاج کروانے کے بعد سندھ میں اسپتال بنوائیں،  ایسے اسپتال بنوائیں جہاں آصف زرداری اور عام آدمی کا علاج ہوسکے۔