Tuesday, December 7, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

ملکی تاریخ میں پہلی بارتین اقلیتی امیدوار جنرل نشستوں پر کامیاب

ملکی تاریخ میں پہلی بارتین اقلیتی امیدوار جنرل نشستوں پر کامیاب
July 28, 2018
کراچی ( 92 نیوز ) عام انتخابات 2018 میں جہاں مختلف قسم کے ریکارڈبنے اورٹوٹے وہیں پہلی مرتبہ تین اقلیتی امیدوار مسلم اکثریت والے حلقوں سے جنرل نشستوں پر کامیاب ہوئے۔ یہ کامیابی ایک ریکارڈ ہے جس   سے دنیا میں پاکستا ن کا مثبت امیج اجاگر ہوا۔ تینوں ہندو امیدواروں کو ٹکٹس پاکستان پیپلزپارٹی نے دیے تھے ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی بھی الیکشن میں تین اقلیتی امیدوار مسلم اکثریت والے علاقوں میں جنرل نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں ۔ ان میں ایک قومی اسمبلی کی نشست سے جبکہ دو سندھ اسمبلی کی نشست سے الیکشن میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ایک اور اہم بات کہ تینوں ہی امیداواروں کا تعلق سندھ کے حلقوں سے ہے اور تینوں کو ہی ٹکٹ پاکستان پیپلزپارٹی نے دیے تھے ۔ قومی اسمبلی کی نشست سے کامیاب ہونے والے ہندو امیدوار مہیش کمارملانی  این اے 222تھرپارکر سے ایک لاکھ چھ ہزار چھ سو تیس ووٹ لےکر ایم این اے منتخب ہوئے ، انہوں نے جی ڈی اے کے ارباب ذکاءاللہ کو شکست دی  ۔ ارباب ذکاءاللہ 87ہزار ووٹ حاصل کرسکے ۔ڈاکٹر مہیش  ملانی ضلع عمرکوٹ سے منتخب ہوئے ہیں جب کہ یہاں مسلمانوں کی آبادی 58فیصد ہے ۔ جنرل نشست پر منتخب ہونے والے دوسرے ہندو رہنماہری رام کشوری لال ہیں جو سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 47میرپورخاص سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں ۔ ہری رام نے ایم کیوایم کے مجیب الحق کوشکست دی ،ہری رام نے 33ہزار 544 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مد مقابل ایم کیوایم کے میدوار نے 23ہزار 7سو ووٹ حاصل کیے ۔ میر پورخاص میں مسلمانوں کی آبادی 90فیصد ہے۔ جنرل نشست پر کامیاب ہونے والے تیسرے ہندو رہنما گیانومل ہیں جو سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 81جامشورو سے 34ہزار927ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں ، انہوں نے آزاد امیدوارملک چنگیز خان کو شکست دی ۔ملک چنگیز خان 27ہزار ووٹ حاصل کرسکے ۔ اس حلقے میں صرف 2300ہندو ووٹ رجسٹرڈ ہیں ۔