Tuesday, September 27, 2022

ملزم کو پکڑنا پولیس کی ذمہ داری ، انعام کیسا ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ملزم کو پکڑنا پولیس کی ذمہ داری ، انعام کیسا ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

لاہور (92 نیوز) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملزم کو پکڑنے پر  پولیس کو انعام دینے پر برہم ہو گئے ، ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ملزم کو گرفتار کرنا ہولیس کی ذمہ داری ہے ، اس پر انعام کیسا ؟۔

لاہور ہائیکورٹ میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر پولیس کے قبضہ کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران  سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متروکہ وقف املاک کو 72 کنال چھ مرلہ اراضی پرایلیٹ ٹریننگ اسکول بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بدلے میں محکمہ پولیس نے 72کینال اراضی دی،ڈی آئی جی ایلیٹ فورس متبادل  اراضی پر بھی قبضہ کر رہا ہے،درخواست گزارکے وکیل نے مؤقف اختیارکیا کہ پولیس درخواست گزاروں کو ہراساں کر رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ زمین ٹرسٹ پراپرٹی ہے،وفاقی حکومت بندر بانٹ نہیں کر سکتی،عدالت نےاستفسارکیا کہ کیا پولیس کا کام یہ ہے کہ ملک میں اندھیر نگری شروع کرے؟،پولیس پربرہمی کااظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سڑکیں آپ سے سنبھالی نہیں جاتیں، ملزم آ پ سے گرفتار نہیں ہوتے۔

چیف جسٹس نےعابد ملہی کی گرفتاری پر انعام دینے پرحیرت کا اظہارکرتے ہوئےاستفسارکیا کہ ملزم کو پکڑنا پولیس  کی ذمہ داری ہے اس پر انعام کیسا؟ ۔ چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ اب پولیس افسر انعام کا انتظار کرے پھر ملزم پکڑے،ملزم پکڑا نہیں جاتا اور پولیس والے قبضے کر رہے ہیں۔