Friday, September 30, 2022

ملالہ یوسفزئی بچیوں کی تعلیم کےلئے اٹھنے والی توانا آواز بن چکی ہے

ملالہ یوسفزئی بچیوں کی تعلیم کےلئے اٹھنے والی توانا آواز بن چکی ہے
پشاور (92 نیوز) نوبل انعام پانے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ ملالہ نے ایسے وقت میں علم دشمنوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جب اس کے آبائی علاقے سوات میں ہر طرف دہشتگردوں کا راج تھا ۔ گلی مکئی کے نام سے شہرت پانے والی ملالہ یوسفزئی نے 12 جولائی 1997 کو سوات میں آنکھ کھولی۔ حصول علم کے اوائل میں ہی سوات میں بچیوں کی تعلیم کے دشمنوں کا راج قائم ہوا تو قوم کی اس بہادر بیٹی نے گل مکئی کے نام سے تحریر کے ذریعے آواز بلند کرنا شروع کی۔ ملالہ یوسفزئی نے بچیوں کی تعلیم کے لئے آواز اٹھانے کی پاداش میں سر پر گولی کھائی مگر اس بزدلانہ کارروائی کے باعث اس کا عزم اور استقلال کم ہونے کی بجائے اور بھی بڑھ گیا۔ آج وہ پوری دنیا میں خواتین کے تعلیم کی توانا آواز بن گئی ہے۔ امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی ملالہ نہ صرف سب سے کم عمر شخصیت ہیں بلکہ بچیوں کی تعلیم کے آواز بلند کرنے پر ملالہ کو ستارہ شجاعت، نیشنل یوتھ پیس پرائز، انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز اور مدر ٹیریسا ایوارڈ سمیت کئی بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ ہر موقع پر مشرقی لباس میں ملبوس سادہ مگر پروقار اور بااعتماد ملالہ آج پوری دنیا میں پاکستان کی شناخت بن گئی ہے۔