Wednesday, October 5, 2022

مقبوضہ کشمیر کے طلباء کا مستقبل خطرے سے دو چار

مقبوضہ کشمیر کے طلباء کا مستقبل خطرے سے دو چار
سرینگر ( 92 نیوز)  مقبوضہ کشمیر  کی ابتر صورتحال اور مواصلاتی نظام کی بندش نے کشمیری طالب علموں کامستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مقبوضہ وادی میں جہاں گھروں میں محصور طالب علم اپنے وقت کے ضیاع پر پریشان ہیں وہیں بھارت اور بنگلہ دیش میں زیر تعلیم طالب علموں کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر  میں بھارت نے جبر کے نئے ریکارڈ بنا دیے، کشمیریوں کا سب کچھ داؤ پر لگ گیا، مسلسل کرفیو اور مواصلاتی بندش نے ہزاروں طالب علموں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا۔ کشمیری طالب علم جنید رفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب سے کرفیو لگا ہے اس کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا، کشیدہ ماحول کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں پاتے۔ [caption id="attachment_238431" align="alignnone" width="500"] مقبوضہ کشمیر کے طلباء کا مستقبل خطرے سے دو چار[/caption] کشمیری بچی مہوش کا کہنا تھا کہ ابھی اس کے پیپر باقی تھے کہ کرفیو لگ گیا جس سے پیپر کینسل ہو گئے،اب اسے فرسٹ ایئر میں دو سال لگانے پریں  گے۔ [caption id="attachment_238432" align="alignnone" width="500"] مقبوضہ کشمیر کے طلباء کا مستقبل خطرے سے دو چار[/caption] ایک اور طالبہ  مہک کا کہنا تھا کہ اس کے بورڈ کے امتحانات ہیں لیکن کرفیو کی وجہ سے وہ اچھی طرح نہیں پڑھ پا رہی۔ [caption id="attachment_238433" align="alignnone" width="500"] مقبوضہ کشمیر کے طلباء کا مستقبل خطرے سے دو چار[/caption] کشمیری طالب علم انسب نصیر نےغیرملکی میڈیا کو بتایا کہ وہ کشیدگی بچپن سے دیکھتے آ رہے ہیں اور ان کے پانچ چھ سال ایسے ہی ضائع ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بھارت اور بنگلہ دیش میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کی زندگیاں کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش نے اجیرن بنا دی ہیں۔ جہاں وہ اپنے پیاروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے وہیں ان کے پاس پیسے بھی ختم ہو چکے ہیں۔ پیسوں کی بندش نے ان طالب علموں کے روزمرہ معاملات کو بری طرح متاثر کیا ہے اور وہ بےیارومددگار بیٹھے ہیں۔