Monday, February 26, 2024

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو کو 147 روز ، کشمیری موسم کی سختیاں برداشت کرنے پر مجبور

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو کو 147 روز ، کشمیری موسم کی سختیاں برداشت کرنے پر مجبور
December 29, 2019
سرینگر (92 نیوز) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو کو 147 روز ہو گئے۔ قیدی بنے لاکھوں کشمیری موسم کی سختیاں بھی برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ چودہ فروری کا دن جب پلوامہ میں بھارتی پیرا ملٹری فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں اکتالیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ الیکشن نزدیک تھے ،مودی کو نیا بہانہ مل گیا اور وہ الزام پاکستان پر دھر کر حملے کی دھمکیاں دینے لگا ۔ اس دوران کشمیریوں کیخلاف مظالم میں شدت آئی ، درجنوں شہری بھارتی بھیڑیوں کا شکار بنے۔ چھبیس فروری کو  تاریکی میں بزدل دشمن کی فضائیہ نے بالاکوٹ میں بمباری کر دی۔ کارروائی میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ پھر ستائیس فروری کا سورج طلوع ہوا۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دن کی روشنی میں دشمن کے دو طیارے مار گرائے ۔ ایک پائلٹ ابھی نندن کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ پھر کچھ روز بعد ہی امن کی خاطر اُسے آزاد کر دیا گیا۔ رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا۔ ہزیمت کے باوجود مودی سرکار انتخابی مہم میں  خیالی فتح کا ڈھول پیٹتی رہی ۔ خراب ہوتی معیشت اور دیگر اہم ایشوز پس پشت ہو گئے ۔ بالآخر مودی کا پروپیگنڈہ کام کر گیا اور بی جے پی دوبارہ برسراقتدار آگئی ۔ طاقت میں آنے کے بعد  انتہا پسند مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے  کے منصوبے پر دوبارہ کام شروع کر دیا جسے پانچ اگست کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370 ختم کر دیا گیا۔ پورا کشمیر فوجی چھاؤنی بن گیا۔ محبوبہ مفتی ،عمر عبداللہ، سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق سمیت درجنوں سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا۔ سیکڑوں کشمیر حراست میں لے لئے گئے ۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی  ۔ ادویات اور اشیائے خور و نوش کی قلت پیدا ہو گئی ۔ انسانیت سوز اقدامات پر عالمی ضمیر بھی جاگ اٹھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار ثالثی کی پیشکش کی ۔ کانگریس میں بھی پہلی بار مقبوضہ وادی  کی بازگشت سنائی دی گئی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ خوب لڑا۔ ملائیشین وزیر اعظم مہاتیر محمد اور ترک صدر طیب اردوان نے بھی مظالم پر اپنی آواز بلند کی ۔ آج کشمیر میں بھارت کے بدترین لاک ڈاؤن کو 143 سے زائد روز ہو چکے ہیں لیکن  کشمیری آج بھی ہمت و جرات اور حوصلے سے سرشار ہیں ۔