Wednesday, January 19, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

مقامی اسٹنٹ تیار کرنے پر 37 ملین کیسے لگے ؟ آڈٹ ہو گا ، چیف جسٹس

مقامی اسٹنٹ تیار کرنے پر 37 ملین کیسے لگے ؟  آڈٹ ہو گا ، چیف جسٹس
February 3, 2018

اسلام آباد (92 نیوز) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ مقامی اسٹنٹ کی تیاری میں 37 ملین کی لاگت کا آڈٹ کریں گے ۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے غیر معیاری سٹنٹس سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔
ڈاکٹر ثمر مند مبارک اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر شاہد پیش ہوئے ۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے استفسار کیا کہ جو سٹنٹ آپ نے بنایا وہ کہاں ہے ؟ ۔ اپنی کارکردگی اور اخراجات کی تفصیل سے آگاہ کریں ۔
اس پر ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بتایا کہ انہوں نے بطور چیئرمین نیسکام 2004 ءمیں جرمنی سے 30 ملین کی مشین منگوائی ۔ 37 ملین روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع ہوا ۔ سالانہ دس ہزار سٹنٹس تیار کئے جانے تھے ۔ ساڑھے 400 سٹنٹ تیار کرا کر ٹیسٹ کے لئے جرمنی بھیجے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد منصوبہ نسٹ کے سپرد کر دیا گیا تھا ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 14 سال بعد بھی نتائج نہیں آئے ۔ مئی جون تک اسٹنٹ تیار چاہئیں ۔ اپنے طور پر سٹنٹس کا ٹیسٹ کرائیں گے ۔
ادھر پی آئی سی کے سربراہ ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ پنجاب میں دل کے 5 ہسپتال ہیں ۔ کارڈیالوجی ہسپتالوں کو سٹنٹ 15 ہزار میں ملتا ہے ۔ ڈرگ ایلویٹنگ سٹنٹ 34 ہزار کا ہے ۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انہیں بھی 15 ہزار والا سٹنٹ ڈالیں گے ۔ چائنہ کے سٹنٹ قابل استعمال نہیں تو رجسٹرڈ کیوں کئے ؟؟ ۔ کیوں نہ چائنہ کے سٹنٹس کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے ؟ ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال نے جج کی بیٹی کے علاج کے لئے 64 لاکھ روپے لئے ۔ نجی ہسپتال والے کپڑے تک اتار لیتے ہیں ۔ مریضوں کو زبح کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔ دل کے علاج کے لئے منافع کی شرح کا آڈٹ کرانا پڑا تو کرائینگے ۔
عدالت نے تمام ڈاکٹرز کو اسٹنٹ کے معیار قیمت سمیت تمام تفصیلات پر مشتمل حکمت عملی طے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج شام 4 بجے تک ملتوی کر دی ۔