Sunday, December 4, 2022

مفتی تقی عثمانی حملہ کیس ، حملے کے تین سہولت کار گرفتار

مفتی تقی عثمانی حملہ کیس ، حملے کے تین سہولت کار گرفتار

کراچی (92 نیوز) کراچی میں مفتی تقی عثمانی حملہ کیس میں اہم پیشرفت ہو گئی۔ حملے کے تین سہولت کار گرفتار کر لیئے گئے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تینوں ملزمان تعلیم یافتہ ہیں اور تینوں نے مختلف طریقوں سے حملے میں ملوث شوٹر ٹیم کو مدد فراہم کی۔ تفتیشی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ حملے میں حصہ لینے والی شوٹر ٹیم کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔  حملے میں ملوث 2 دہشت گرد بیرون ملک فرار ہیں۔

 ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حملے میں ملوث گروپ میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے جسے تفتیش کیلئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

 کراچی میں دہشت گردوں نے وار کرتے ہوئے نیپاچورنگی کے قریب معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی  کی گاڑی پر گولیاں برسا دیں تھیں۔ مسلح ملزمان موٹرسائیکلوں پر سوار تھے۔ دونوں طرف سے گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی۔

 حملے میں مفتی تقی عثمانی کی سکیورٹی پرتعینات پولیس اہلکار فاروق جاں بحق ہو گیا تھا۔

 دہشتگردوں نےاگلے ہی لمحے دوسری گاڑی کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ اس گاڑی میں مفتی عامر شہاب سکیورٹی گارڈ کے ساتھ سوار تھے۔ یہاں بھی دہشت گردوں نے گولیاں برسائیں تھی۔ حملے میں مفتی عامر شہاب شدید زخمی ہوئے اور ان کا محافظ صنوبرخان جاں بحق ہوا تھا۔

 کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملے میں بیرونی عناصر ملوث ہو سکتے ہیں۔

 سی ٹی ڈی کی ٹیم بھی جائے وقوعہ پرپہنچی اور شوائد اکھٹے کئے تھے۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے پندرہ خول ملے تھے۔