Wednesday, January 26, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

مشیر خزانہ نے اقتصادی سروے 19-2018 پیش کرتے ڈیفالٹ کا خدشہ بھی ظاہر کر دیا

مشیر خزانہ نے اقتصادی سروے 19-2018 پیش کرتے ڈیفالٹ کا خدشہ بھی ظاہر کر دیا
June 10, 2019
اسلام آباد ( 92 نیوز) مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے اقتصادی سروے 19-2018 پیش کر دیا، جس کے مطابق رواں مالی سال معاشی ترقی  کا ہدف  حاصل نہ ہو سکا۔ اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے مشیر خزانہ  نےبتایا کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 6.2فیصد تھا جو کہ 3.3 فیصد رہا۔ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 6.5 فیصد ہوگیا۔نقصان میں چلنے والے سرکاری شعبے اور سکیورٹی اخراجات نے مالیاتی خسارہ بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ قرضے بھاری شرح سود پر لیئے گئے۔سود کی بھاری ادائیگیوں اور ناجائز سبسڈی نے مالی خسارہ بڑھایا۔ ٹیکس محصولات کا 13.1 فیصد بڑھانے کا ٹارگٹ بھی حاصل نہ کیا جاسکا۔ محصولات جمع کرنے کی شرح 11 فیصد سے گر کر 5.9 فیصد رہ گئی۔ سروے کے مطابق زرعی شعبے کی شرح نمو 0.85 فیصد رہی۔ لائیو اسٹاک کے شعبے نے 4 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ صنعتی شعبے کی ترقی 7.6فیصد  ۔۔کان کنی کے شعبے کی گروتھ منفی 1.96 فیصد رہی۔چھوٹی صنعتوں کی گروتھ ہدف کے مطابق 8.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جب کہ تعمیراتی شعبے کی ترقی کی شرح 10 فیصد ہدف کےمقابلے میں 7.57 فیصد رہی۔ خدمات کے شعبے کی ترقی کی شرح 4.71  فیصد  رہی جو کہ ہدف  سے کم ہے ۔تھوک اور پرچون کے کاروبار کی ترقی کی شرح 3.11 فیصد ریکارڈ ہوئی، ان شعبوں کی ترقی کا ہدف 7.8 فیصد تھا۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ اسٹوریج اور کمیونیکیشن کے شعبوں میں 3.34 فیصد کی شرح سے گروتھ ہوئی۔ فنانس اینڈ انشورنس کےشعبوں میں ترقی کی شرح 5.14 فیصد رہی۔ ہاؤسنگ سروسز کے شعبے میں ہدف کے مطابق چار فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی، عمومی سرکاری خدمات کے شعبوں میں ترقی کی شرح 7.99 فیصد رہی۔۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ ریکارڈ 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ  32 ارب ڈالرکی حد عبور کر  چکا ہے۔ عبد الحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ قومی اقتصادی سروے میں اعداد وشمار سو فی صد حقائق پر مبنی ہیں۔ سروے میں معیشت کی کمزوریوں کو اجاگر کیا گیا ۔معیشت  کی بہتری  کے لیے  آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر  بھی اصلاحات  لازم ہیں ۔  قرضوں کیوجہ سے ملکی کرنسی دباؤ کا شکار ہے۔ معاشی استحکام کیلئے مثبت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ آیندہ بجٹ میں لوگوں کی امیدوں پر پوری اتریں گے۔ حکومت بجٹ میں بھی نچلے طبقے پر بوجھ نہیں پڑنے دے گی۔