Saturday, December 10, 2022

مسلم لیگ نواز نے116صفحات پر مشتمل جواب جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیا

مسلم لیگ نواز نے116صفحات پر مشتمل جواب جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیا
اسلام آباد(92نیوز)مسلم لیگ ن نے 116 صفحات پر مشتمل جواب جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیا،راجہ ظفر الحق کی قیادت میں ن لیگ کا وفد جوڈیشل کمیشن پہنچا، وفد میں بیرسٹر ظفر اللہ ،رفیق رجوانہ ،طاہرہ اورنگزیب ،اقبال ظفر جھگڑا اور طارق فضل چوہدری بھی شامل تھے۔ ن لیگ نے اپنی گزارشات میں مزید کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن خود تعین کرے کہ کس شخص کا بیان ریکارڈ کرنا ہے،جبکہ کسی اینکر پرسن یا تجزیہ کار کا بیان بطور ثبوت استعمال نہ کیا جائے۔ ن لیگ نے یہ بھی درخواست جوڈیشل کمیشن کے سامنے رکھی کہ دھاندلی کے حوالے سے کوئی غیر مصدقہ ویڈیو شواہد عدالت میں نہ چلائے جائیں، اس طرح جوڈیشل کمیشن تھیٹر بن جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے ملک بھر کے کل 78 حلقوں کا ریکارڈ جوڈیشل کمیشن میں جمع کرایا گیا ہےپی ٹی آئی رہنما اسحاق خاکوانی کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کا نام تحریک انصاف کے گواہوں میں شامل نہیں تاہم اگر انہیں کمیشن نے بلایا تو تحریک انصاف بھی اپنے سوال کرے گی۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کمیشن سے جواب کے لیے مزید وقت مانگا گیا جبکہ متحدہ نے الیکشن 2013 میں دھاندلی کے حوالے سے اپنی شاکایات جمع کرادیں۔ ق لیگ کی جانب سے32 گواہوں کی فہرست جوڈیشل کمیشن میں جمع کرائی گئی جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے رجسڑارز اور سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم اور حامد علی مرزا کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی نے کمیشن میں قومی اسمبلیوں کے تین اور سندھ کے ایک حلقے کا ریکارڈ جمع کرایا۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں کمیشن کی مزید کارروائی پیر کو ہوگی۔