Saturday, October 1, 2022

مخالفین سن لیں این آراو کسی صورت نہیں ملے گا، وزیر اعظم

مخالفین سن لیں این آراو کسی صورت نہیں ملے گا، وزیر اعظم
صوابی ( 92 نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر  اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین سن لیں این آر او کسی صورت نہیں ملے گا۔ صوابی میں غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ   میں نئے بلاک کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سنٹر آف ایکسی لینس کبھی بھی اپنے معیار کو نیچے نہیں جانے دیتا، تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے ، مشکل وقت آتے رہتے ہین لیکن معیار نہیں گرنے دینا ، حکومت معیاری تعلیم پر توجہ دے رہی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں مقصد کے لئے سمجھوتہ کرتا ہوں مگر مقصد پر سمجھوتہ نہیں کروں گا، مخالفین س لیں کہ  این آر او کسی صورت نہیں ملے گا، کرپشن نے ملکی ادارے تباہ کر دیے ، اداروں کو ختم کرنا آسان،بنانا بہت مشکل ہے ،جو ملک پر حکمرانی کرتے رہے ان کے کاروبار،فلیٹ اور بچے باہر ہیں،جس دن این آر او دیا  وہ ویژن پر کمپرو مائز ہوگا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہرقسم کی دولت سے نوازا ہے ، ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں،صرف ادارے مضبوط کرنا ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صرف ٹورازم سے پورا کرسکتے ہیں، ملک میں وسائل کی کمی نہیں،تیزی سے آگے بڑھے گا۔ وزیراعظم نے اپنی ماضی کا قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ پہلا ٹیسٹ کھیلنے کے بعد تین سال تک ٹیم سے باہر رہا مگر محنت کی اور واپس آگیا ، کبھی اپنے خواب پر کمپرومائز نہیں کرنا، کامیاب انسان خوف پر فیصلے نہیں کرتا،رسک نہ لینے والا کبھی بڑا بزنس مین نہیں بنتا، انسان کو کامیابی تب ملتی ہے جب وہ اپنے خوف پر قابو پالیتا ہے ، دنیا کے عظیم لوگوں نے مشکل زندگی گزاری لیکن اندر سکون تھا، سہل پسند لوگ کبھی بڑے آدمی نہیں بنتے،زندگی  کااصل مقصد انسانیت کی خدمت ہے ، جوانسان اپنی زندگی کامقصد سمجھ لیتا ہے وہ سکون میں آجاتا ہے ، جو پیسہ بنانا مقصد بنا لیتا ہے اس کی زندگی میں سکون نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ بنتا تو آج ہمارےساتھ  وہی ہوتاجو مقبوضہ کشمیر میں ہورہاہے، قائداعظم نے ہندوؤں کی آرایس ایس آئیڈیالوجی کو بھانپ لیا تھا ، قائداعظم اس وقت سمجھ گئے تھے کہ ہندومسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا کررکھنا چاہتے ہیں، جب تک پاکستان رہے گا لوگ قائداعظم کو یاد رکھیں گے ، تاریخ ان کو یاد رکھتی ہے جو انسانیت کی خدمت کرتے ہیں، وعدہ ہے کشمیر آزاد ہونے تک ہرفورم پر کشمیر کا کیس لڑوں گا۔ ریاست مدینہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ  ہمارے رول ماڈل حضور نبی کریم ﷺ ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں، طلبہ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ ضرور کریں ، بچے بچے کو ریاست مدینہ کی خصوصیات کا بتانا چاہیے، بدقسمتی سے ہم نے دین ان پر چھوڑ دیا ہے جن کو سمجھ ہی نہیں ہے ، پڑھے لکھے لوگ اسلامی تاریخ کا مطالعہ نہیں کریں گے تو  تو پھر معاملہ ان کے ہاتھ میں چلا جائے گا جو اپنے آپ کو مولانا کہتے ہیں اور ڈیزل کے پرمٹ پر بک جاتے ہیں۔