Monday, November 29, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

محققین شہد کی مکھیوں کی ہلاکت کی وجوہات ڈھونڈنے میں مصروف

محققین شہد  کی مکھیوں کی ہلاکت کی وجوہات ڈھونڈنے میں مصروف
September 3, 2015
ہوبارٹ (ویب ڈیسک) آسٹریلوی تحقیقی ادارہ کامن ویلتھ سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن ان دنوں اس بات کا کھوج لگانے میں مصروف ہے کہ شہد کی مکھیاں آخر اتنی بڑی تعداد میں کیوں مر رہی ہیں۔ تحقیقی ادارے سے وابستہ محققین نے یہ پتہ لگانے کیلئے شہد کی مکھی کی پشت پر 2.5 ملی میٹر سائز کی چپ نصب کی ہے۔ دیکھنے میں یہ چپ اگرچہ بھاری بھرکم محسوس ہوتی ہے تاہم اس کا وزن محض 5.4 ملی گرام ہے۔ آسٹریلوی تحقیقی ادارے کے ماہر گیری فٹ کے مطابق اس چپ کا وزن تقریباً اس ایک پولن کے ہی قریب ہے جو یہ مکھیاں جمع کرتی ہیں۔ آسٹریلوی ریاست تسمانیہ میں کم و بیش 10 ہزار یورپی شہد کی مکھیوں میں یہ RFID سینسر چپس لگائی گئی ہیں۔ ان چپس کو باندھنے کیلئے ماہرین کو ان مکھیوں کو تھوڑی دیر کیلئے بیہوش کرنا پڑا۔ مکھیوں پر لگی چپس کے علاوہ ان کے چھتوں میں بھی ریسیورز لگائے گئے ہیں۔ اس کا مقصد ان مکھیوں کے ماحول میں پرواز کے دوران اور چھتے میں گزارے جانے والے وقت کے دوران ان کے معمولات جاننا ہے کہ وہ کچھ کھا رہی ہیں، پولن جمع کر رہی ہیں یا کچھ کوئی اور کام کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران دنیابھر میں شہد کی مکھیوں کی کالونیاں بہت تیزی سے ختم ہوئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ ”واروا مائٹس “ نامی ننھی جوﺅں کے علاوہ فصلوں پر چھڑکی جانیوالی کیمیائی ادویات بھی ہیں۔ خیال رہے کہ شہد کی مکھیاں پھولوں کے 70فیصد پودوں کی پولی نیشن کرتی ہیں۔ مکھیوں کے خاتمے سے خوراک کا بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔