Wednesday, September 28, 2022

متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ بننے سے پہلے ہی دھچکا لگ گیا

متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ بننے سے پہلے ہی دھچکا لگ گیا

اسلام آباد (92 نیوز) متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ بننے سے پہلے ہی دھچکا لگ گیا۔ جے یو آئی ( س) نے ایم ایم اے کا ساتھ دینے کی بجائےتحریک انصاف کے ساتھ انتخابی لائحہ عمل طے کرنے پر اتفاق کیا ۔
متحدہ مجلس عمل کی تشکیل نو کے لئے جہاں دینی جماعتوں کے درمیان رابطےعروج پر ہیں وہاں متحدہ مجلس عمل کی اہم جماعت جمعیت علماء اسلام(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے عمران خان سے ملاقات کی ۔
ملاقات میں دونوں جماعتیں انتخابات میں مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر متفق ہو گئی ۔ یوں جے یو آئی (س) پی ٹی آئی کا ساتھ دے گی تو ایم ایم اے کا حصہ نہیں رہے گی۔
مولانا سمیع الحق کے مطابق ان کی جماعت اور پی ٹی آئی کے نظریات ایک جیسے ہیں اس لئے دونوں جماعتیں مل کر انتخابی اشتراک کے لئے راستہ ہموار کرے گی۔
دوسری جانب تمام مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کا خواب ٹوٹ گیا اور اب ایم ایم اے میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی(ف) کے علاوہ چھوٹی جماعتوں کی شمولیت بھی مشکوک ہو گئی ۔
ملاقات میں دونوں رہنماوں نے مزید رابطوں میں رہنے اور باہمی مشاورت سے انتخابی لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا ۔