Wednesday, January 26, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

ماہرین فلکیات نے بھوک مٹانے میں مصروف دیوقامت بلیک ہول دریافت کر لیا

ماہرین فلکیات نے بھوک مٹانے میں مصروف دیوقامت بلیک ہول دریافت کر لیا
December 14, 2016

سٹاک ہوم (ویب ڈیسک) ماہرین فلکیات کی ٹیم نے دس ماہ کے مسلسل مشاہدے کے بعد ایک ایسا دیوقامت بلیک ہول دریافت کیا ہے جو اپنے قریب موجود سورج جتنے ستارے کو ہڑپ کرنے میں مصروف ہے جس کے نتیجے میں اس سے زبردست شعاعیں خارج ہورہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اس فلکیاتی واقعے کا پہلی بار 2015 میں مشاہدہ کیا گیا جسے ابتدائی طور پر سپرنووا  دھماکا تصور کیا گیا تھا لیکن فلکیات دانوں کا ایک گروپ اس سے مطمئن نہیں تھا۔ اس گروپ کا خیال تھا کہ زبردست روشنی کے اس اخراج کی وجہ ایک نادیدہ اور بہت بڑا بلیک ہول ہے جو ہمارے سورج جتنی جسامت والے ستارے کو ہڑپ کرنے میں مصروف ہے۔

آسٹریلیا، چلی، ڈنمارک، فن لینڈ، جرمنی، اسرائیل، اٹلی، اسپین، سویڈن، برطانیہ اور امریکا کے ماہرین فلکیات پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمین پر نصب طاقتور دوربینوں کے علاوہ ہبل خلائی دوربین اور ’’سوئفٹ گیمارے برسٹ مشن‘‘ نامی خلائی دوربین سے دس ماہ تک اس نظارے کا مسلسل مشاہدہ کیا اور اعداد و شمار جمع کیے۔

حاصل شدہ مواد کے محتاط تجزیے کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں شدید گیما شعاعوں اور ایکسریز کا اخراج جس جگہ سے ہورہا ہے وہ ایک کہکشاں کے مرکزے سے بہت قریب ہے اور کہکشانی مرکزے میں بہت ہی ضخیم بلیک ہول موجود ہے۔

یہ بلیک ہول ہمارے سورج جیسے ایک ستارے کو ہڑپ کرنے میں مصروف ہے اور اسی بنا پر وہاں سے اتنی شدید نوعیت کی شعاعیں بھی خارج ہورہی ہیں۔ واضح رہے کہ بلیک ہولز اپنی کمیت کے اعتبار سے بہت بڑے ہوتے ہیں۔

ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں بھی ایسا ہی ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود ہے جس کی کمیت کے بارے میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ ہمارے سورج کے مقابلے میں 40 لاکھ گنا زیادہ ہے یعنی اس ایک بلیک ہول میں ہمارے سورج جیسے 40 لاکھ ستاروں سے بھی زیادہ کا مادّہ موجود ہے۔