Friday, October 7, 2022

لیڈری کا شوق نہیں، بنیادی حقوق کا تحفظ ذمہ داری ہے ، چیف جسٹس پاکستان

لیڈری کا شوق نہیں، بنیادی حقوق کا تحفظ ذمہ داری ہے ، چیف جسٹس پاکستان

کراچی ( 92 نیوز ) چیف جسٹس پاکستان نے سندھ میں آلودہ پانی سے متعلق کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ لیڈری کا شوق نہیں لیکن بنیادی حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے ۔
سپریم کورٹ نے سندھ بھر میں سرکاری افسروں کے تقرر و تبادلے پر عائد پابندی بھی اٹھا لی ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ سوائے چیف سیکرٹری کے کسی بھی افسر کا تقرر یا تبادلہ کریں ۔ بندہ آپ کی مرضی کا مگر کام ہماری مرضی کا ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بڑے اعتراضات کئے گیے کہ چیف جسٹس میو اسپتال کیوں چلا گیا؟ ۔ دورہ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کیا ۔ جسے تنقید کرنی ہے کرلے ۔ چیف جسٹس نے سندھ میں اسپتالوں کی ابتر صورتحال پر ازخود نوٹس بھی لے لیا ۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سندھ کے دریاؤں اور نہروں میں زہریلا پانی ڈالا جا رہا ہے، اور وہی پانی شہریوں کو پینے کےلئے دیا جا رہا ہے، معاملہ انسانی زندگیوں کا ہے ۔ کوتاہی برتنے والوں کو چھوڑیں گے نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ عدالت کے پاس توہین عدالت کا اختیار بھی ہے ۔ زہریلے پانی سے شہریوں میں ہیپاٹائٹس سمیت پیچیدہ بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔ اگر پانی ہی صاف نہیں تو کیا زندگی رہے گی ۔
چیف جسٹس نےایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیاکہ بتائیں ، کراچی میں واٹر ٹینکر مافیا کب سے اور کیسے چل رہا ہے ۔انسانی زندگیوں کامعاملہ ہے یہاں سے اٹھ کر نہیں جانے والے۔
عدالت نے چیف سیکرٹری سےاستفسار کیا کہ 5 دسمبر سے آج 23 دسمبر تک کیا کام کیا گیا ۔ کراچی میں 45 لاکھ ملین گیلن گندہ پانی سمندر میں جا رہا ہےکیا یہ معمولی بات ہے ۔
چیف جسٹس نے ایم ڈی واٹربورڈ کو بتایا کہ کل رات بھی باتھ آئی لینڈ میں ٹینکر سے پانی لیا ۔ واٹر ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس ختم کیوں نہیں کر سکتے ۔ کیا آپ کا بندہ ماہانہ پیسے وصول نہیں کرتا۔
عدالت نےکہاکہ پانی فراہم کرنا واٹر بورڈ کی ذمے داری ہے لیکن ٹینکرز مافیا کی کمائی جاری ہے ۔ کوتاہی برتنے والوں کو بخشا نہیں جائےگا ۔ چیف سیکریٹری ابھی بتائیں کس کوکتنے درجے تنزلی کرنی ہے ۔
چیف جسٹس نے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کیلئے ایس تھری پروجیکٹ کابجٹ آٹھ ارب سے 36ارب پہنچنے پربرہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالت کو نتائج چائیے بنا جواب دیئے چیف سیکریٹری اور ایم ڈی واٹر بورڈ کو جانے نہیں دے گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ جس علاقے میں واٹر بورڈ کی لائن نہیں وہاں مفت پانی کے ٹینکر پہنچائیں ۔