Wednesday, November 30, 2022

لیز کی زمین آگے لیز پر دینا کسی صورت قابل قبول نہیں،چیف جسٹس

لیز کی زمین آگے لیز پر دینا کسی صورت قابل قبول نہیں،چیف جسٹس
اسلام آباد (92 نیوز) چیف جسٹس ثاقب نثار نے راول جھیل کیس میں کہا لیز کی زمین کو آگے لیز پر دینا کسی طرح قابل قبول نہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے راول جھیل کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے کہ راول لیک پر سرکاری اراضی کی بندر بانٹ ہوتی ہے۔ کسی لیز میں غلط فائدہ دیا گیا ہے تو سی ڈی اے کیس نیب کو بھیج دے۔ لیز ہولڈر ایک ماہ میں اپنی خامیاں دور کریں۔ جو شرائط پوری نہ کریں انہیں اٹھا کر باہر پھینکیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا چک شہزاد کے فارم ہاوس پر جرمانے لگتے ہیں  تو لگائیں۔ کسی کا فارم ہاوس مقررہ حد سے زیادہ ہے تو گرائیں۔ عدالت نے چئیرمین سی ڈی اے کو ایک ماہ بعد معائنہ کرنے کا حکم سناتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس نے زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا لوگ آب زم زم کا پانی چھ چھ ماہ گھر بوتلوں میں رکھتے ہیں۔ یہ نہیں بابرکت پانی کسی کے منہ میں چلا جائے ، بوتلوں میں مخفوظ کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا زیر زمین پانی مفت نہیں ہونا چاہیے۔ ہر قسم کے صارف پر پانی کی قیمت کا تعین ہونا چاہیے۔ عدالت نے 20 روز میں زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔