Monday, October 3, 2022

لیاری میں بلاول بھٹو کے قافلے پر علاقہ مکینوں کا پتھراؤں ، علاقہ میدان جنگ بن گیا

لیاری میں بلاول بھٹو کے قافلے پر علاقہ مکینوں کا پتھراؤں ، علاقہ میدان جنگ بن گیا
کراچی ( 92 نیوز ) کراچی کے علاقے لیاری میں بلاول بھٹو زرداری کے انتخابی قافلے  پر علاقہ مکینوں کی جانب سے پتھراؤں کیا گیا، پتھراؤ کے بعد بلاول بھٹو زرداری کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے آگئے جس سے علاقہ میدان جنگ بن گیا، پتھراؤ کے باعث ایک جیالہ بھی زخمی ہو گیا۔ الیکشن 2018 کے دوران امیدواروں کو ووٹرز نے کھری کھری سنانا شروع کردیں ، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی عوام کے غم وغصے کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔ بلاول بھٹو زرداری اپنے حلقے لیاری میں قافلے کی صورت میں نکلے تو آگرہ تاج کالونی کے قریب اہل علاقہ نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ، پانی کی بوند بوند کو ترسے عوام نے دس سال تک مسلسل اقتدار کے مزے لینے والوں کو آئینہ دکھا دیا ، خواتین اور بچے خالی مٹکے اٹھائے چھتوں پر آگئے  اور ’’پانی دو‘‘کے خوب نعرے لگائے  اور تو اور بلاول کی توقعات کے برعکس ریلی پر گل پاشی کے بجائے پتھراؤ شروع ہوگیا ۔ پتھراؤ سے دو افراد زخمی بھی ہوگئے ، مشتعل افراد کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو بلاول کی گاڑی پر ڈنڈے بھی برسا دیئے ، صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی  تاہم صورتحال کو بھانپتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ریلی کا راستہ تبدیل کرنے میں ہی عافیت جانی ۔ دوسری جانب  بلاول بھٹو کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ  بلاول کی لیاری ریلی جاری رہے گی  ، کارکن پر امن رہیں ، تشدد کی سیاست کرنیوالے  راستہ نہیں روک سکتے  ،ہم نے تشدد کا جواب تشدد سے نہیں سیاسی عمل سے دیا ہے۔ترجمان بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز اپنی ذمہ دارای ادا کریں جب کہ الیکشن کمیشن واقعہ  کا نوٹس لے ۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور  پاکستان پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان نے کہا کہ ہمارا پر امن قافلہ تھا متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ، ہم بالکل نہیں ڈریں گے اپنا سیاسی سفر جاری رکھیں گے ،شیری رحمان ہم لیاری کو یرغمال نہیں بننے دینگے۔ لیاری سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سلیم ضیا نے کہا کہ لیاری کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ، پانی تک میسر نہیں  لیکن میں بطور سیاسی کارکن اس طرح کی کارروائی کی حمایت نہں کرتا۔