Monday, September 26, 2022

لگتا ہے معاون خصوصی وزارت پٹرولیم چلا رہے ہیں، لاہور ہائیکورٹ

لگتا ہے معاون خصوصی وزارت پٹرولیم چلا رہے ہیں، لاہور ہائیکورٹ
لاہور (92 نیوز) لاہور ہائی کورٹ میں پٹرول کی قلت کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ یوں لگتا ہے معاون خصوصی وزارت پٹرولیم چلا رہے ہیں اوربحران کے بھی وہی ذمہ دار ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے  پٹرول کی قلت کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی، پٹرول بحران پر وزیراعظم کی سربراہی میں کابینہ کے میٹنگ منٹس پیش کر دیئے گئے۔ عدالت نے  قرار دیا لگتا ہے جس نے میٹنگ منٹس بنائے اس نے وزیراعظم کو خوش کرنے کے لیے بنائے، میٹنگ منٹس وزیراعظم کے نام سے بنائے گئے، اس بڑے پیمانے پر ایسی غلطی کیا معنی رکھتی ہے؟ عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایک طرف وزیراعظم کا معاون خصوصی  ہے اور دوسری طرف پوری کابینہ ہے میٹنگ منٹس سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم بھی عوام کا سوچ رہے ہیں،اسپیشل اسسٹنٹ نے آخر میں بحران کی اصل وجہ سے توجہ ہٹا دی۔ الزام لگتا ہے حکومت غیر منتخب لوگ چلا رہے ہیں۔ جو منتخب ہوتا ہے اسے عوام میں جانا پڑتا ہے، وزیر بھی ہو تو عوام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیر منتخب لوگ تو اپنا بیگ اٹھاتے ہیں اور اپنے دفتروں کو چلے جاتے ہیں۔ منتخب اور غیر منتخب افراد میں یہی فرق ہے، میٹنگ منٹس سے تو لگتا ہے کہ وزارت پٹرولیم کی ذمہ داری بنتی ہے جبکہ وزارت پٹرولیم کہتی ہے کہ ساری ذمہ داری اوگرا کی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر حکومت کمیشن بناتی ہے تو کب تک رپورٹ بنا لے گی؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت کمیشن بنائے گی اور چھ سے آٹھ ہفتے میں رپورٹ بنا لے گی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ جلد از جلد آنی چاہئے، اگر کمیشن نہیں بنتا تو تمام حکومتی ادارے درخواستوں پر جواب داخل کریں۔ چیئرپرسن اوگرا نے کہا کہ وہ کل ریٹائر ہو رہی ہیں، سب ریکارڈ دے دیا ہے۔ یہ نہیں کہتی کہ سب حکومت کی غلطی ہے لیکن سب اوگرا پرڈالنا بھی درست نہیں۔ عدالت نے کارروائی مکمل ہونے پر سماعت چھ ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔