Thursday, September 29, 2022

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا .... فرانس میں 160 مساجد بند کرنے کا فیصلہ

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا ....  فرانس میں 160 مساجد بند کرنے کا فیصلہ
پیرس (ویب ڈیسک) فرانسیسی حکومت نے ایمرجنسی قوانین کے تحت ایک سو ساٹھ مساجد بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ چیف امام حسن العلوی نے کہا ہے کہ تین مساجد کو بند کر دیا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق لائسنس نہ رکھنے والی مساجد کو بند کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پیرس میں دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف سخت پالیسیاں اپنا لی گئیں۔ فرانسیسی حکومت نے آئندہ چند ماہ میں ایک سو ساٹھ مساجد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تین مساجد بند کی جا چکی ہیں۔ فرانس میں رہنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ فرانس میں مسلمان ہونا آسان نہیں۔ فرانسیسی حکومت نے پیرس میں دہشت گرد حملوں کے بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر رکھی ہے۔ اس ہنگامی حالت کے نفاذ سے بنیادی حقوق کے قوانین معطل ہیں۔ نئے قوانین کے تحت فرانسیسی حکومت بظاہر دہشت گردی کی روک تھام کے اقدامات کر رہی ہے لیکن یہ اقدامات مسلم مخالف روپ دھارتے نظر آتے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت تین مساجد بند کی جا چکی ہیں جبکہ مزید ایک سو ساٹھ مساجد بند کرنے کی تیاری ہے۔ فرانس کی حکومت کے ساتھ مل کر مساجد کا انتظام دیکھنے والے چیف امام حسن العلوی کا کہنا ہے کہ جن مساجد سے نفرت انگیز تقاریر ہوتی ہیں یا جن کے پاس لائسنس نہیں انہیں جلد بند کر دیا جائے گا اور ایسی مساجد کی تعداد سو سے ایک سو ساٹھ ہے۔ فرانس میں چھبیس سو مساجد ہیں اور دہشت گرد حملوں کے بعد نافذ ایمرجنسی قوانین کے تحت کسی بھی عبادت گاہ کو بند کیا جا سکتا ہے۔ فرانسیسی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ فرانس میں مسلمان ہونا آسان نہیں۔ باحجاب خاتون کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ مسلمان مرد کے لئے ملازمت تلاش کرنا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔