Thursday, October 6, 2022

لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے حکومتی دعوے ، 92 نیوز حقائق سامنے لے آیا

لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے حکومتی دعوے ، 92 نیوز حقائق سامنے لے آیا

اسلام آباد ( 92 نیوز ) بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور طلب سے زیادہ پیداوار کے حکومتی دعوے جاری ہیں ۔ مگر زمینی حقائق کیا ہیں ؟۔ 92 نیوز نے بجلی کی پیداوار ، طلب اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے حکومت کی 4 سالہ کارکردگی کا کھوج لگایا ۔
وزارت پانی و بجلی کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں دعوٰی کیا جا رہا ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار طلب سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ موجودہ حکومت نے چار برسوں میں تعمیر کئے گئے پاور پلانٹس کا بھی کئی بار زکر کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ چار برس میں 8 ہزار 694 میگا واٹ اضافی بجلی پیدا کی ہے ۔
مسلم لیگ ن کی حکومت 2013 میں وجود میں آئی تو پاور سسٹم کی مجموعی پیداواری صلاحیت 23ہزارمیگاواٹ تھی ۔ ڈی ریٹڈ صلاحیت یعنی تمام پاور پلانٹس چلائے جایئں تو19ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی تھی۔


دستاویزات بتاتی ہیں اسوقت حکومت صلاحیت کےمقابلےمیں15 سے16ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کرسکتی تھی ۔ مئی 2013 میں بجلی کی طلب 22 ہزارمیگاواٹ تھی یعنی بجلی کا شارٹ فال 5 سے7 ہزار میگاواٹ تھا ۔
حکومت کی سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بجلی کی ڈی ریٹڈ صلاحیت آج بھی 19 ہزار میگاواٹ ہے۔ پاورسسٹم تمام وسائل استعمال کر کے بھی 18 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔
وزارت توانائی کے مطابق حکومت نے گزشتہ چار برس میں 41 پاور پلانٹس تعمیر کئے اور 8 ہزار 6 سو 94 میگا واٹ اضافی بجلی سسٹم میں شامل کی ۔


لسٹ میں خان خواڑ اور جناح پن بجلی منصوبوں کا نام بھی ہے حالانکہ یہ منصوبے پیپلزپارٹی دور حکومت میں مکمل ہوئے اور 2010 سے بجلی پیدا کر رہے ہیں ۔
فہرست میں ایک ہی منصوبے کا 3 بار اندراج کرکے منصوبوں کی تعداد بڑھائی گئی اور جو کیپٹیو پاور پلانٹس اپنے استعمال کے لیے بجلی خود پیدا کرتے ہیں جبکہ اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کردیتے ہیں اسے بھی حکومت نے اپنے کھاتے میں ڈال رکھا ہے ۔


پیپلز پارٹی دور میں شروع کئے گئے ونڈ پاور پلانٹس بھی حکومت اپنی جھولی میں ڈال چکی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ونڈ پاور پلانٹس سے بجلی کی ترسیل کے لیے ٹرانسمیشن لائینز ہی نہیں۔
ایک پاور پلانٹ سے ترسیل کرنے کے لیے دوسرے پاور پلانٹس کو بند کرنا پڑتا ہے ۔
ایل این جی پاور پلانٹس کا افتتاح بھی مذاق سے کم نہیں۔ کھربوں روپے سے تعمیر کیے جانے والے پاور پلانٹس صرف چند سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاور پلانٹس کا افتتاح تکمیل سے قبل ہی کر دیا گیا جبکہ یہ بجلی کی ترسیل کی مکمل صلاحیت سے بھی محروم ہیں ۔
کوئلہ بجلی گھروں کی کہانی بھی صفحات کالے کرنے تک محدود ہے۔ سرکاری دستاویزات بتاتی ہیں کول پاورپلانٹس میں غیرمعیاری ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔


دستاویزات میں وزارت توانائی نے شپر کریٹیکل ٹیکنالوجی کا ذکر کیا لیکن پاورپلانٹس میں سب کریٹیکل مشنیری استعمال کی گئی۔ اگر بات کی جائے ٹرانسمیشن سسٹم کی تو حکومت کو اسکا خیال 3 سال بعد آیا اور بڑی ٹرانسمیشن لائنیز کی تعمیر کے ٹھیکے اب دیئے جا رہے ہیں جو آئندہ 4 برس میں مکمل ہوں گے۔
ادھر ڈسٹری بیوشن سسٹم نہ بارش برداشت کر سکتا ہے نہ تیز گرمی اور نہ آندھی طوفان۔ ماہرین کہتے ہیں 2018 میں بجلی کی طلب 25 سے 26 ہزار میگا واٹ جبکہ پیداوار 17 ہزار میگا واٹ ہوگی۔
موسم گرما میں بجلی کا شارٹ فال 6ہزارمیگاواٹ تک رہنے کا امکان ہے یعنی حکومتی دعوؤں کے برعکس پرنالہ جہاں تھا وہیں ہے ۔