Thursday, December 1, 2022

لندن میں دہشت گردی، حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک اور 40 زخمی

لندن میں دہشت گردی، حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک اور 40 زخمی
لندن (92 نیوز) لندن میں پولیس کا کہنا ہے کہ ہاؤس آف پارلیمنٹ کے قریب ’دہشتگردی‘ کے ایک واقعے میں حملہ آور سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 40 زخمی ہو گئے ہیں۔ عالمی رہنماؤں کی جانب سے برطانیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بیانات دیے جا رہے ہیں۔ بدھ کی شام لندن میں پارلیمان کے باہر ویسٹ منسٹر پل پر ایک حملہ آور نے وہاں موجود راہگیروں پر گاڑی چڑھا دی تھی جس کے بعد حملہ آور پیلس آف ویسٹ منسٹر کے دروازوں کی طرف بھاگا۔ اسی دوران اس نے وہاں موجود ایک پولیس اہلکار کو چاقو مار دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار اورتین عام شہری بھی شامل ہیں جبکہ حملہ آور کو پولیس نے ہلاک کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی حملہ آور چاقو لہراتا ہوا دوسرے پولیس افسر کی جانب بڑھا، موقعے پر موجود پولیس نے اسے گولی مار دی۔ پولیس نے کہا کہ وہ اس واقعے کو ایک دہشت گردی کی ورادات کے طور پر لے رہے ہیں جب تک کہ انھیں اس کے متضاد کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل جاتی۔ سکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک شدگان میں ایک پولیس افسر اور مبینہ طور پر حملہ آور بھی شامل تھا۔ وزیراعظم ٹریزا مے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اب سے کچھ دیر بعد کابینہ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کریں گی۔ اس واقعے کی ابتدائی تصدیق برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں دارالعوام کے قائد ایوان ڈیوڈ لڈنگٹن نے کی تھی۔ انھوں نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ حملہ آور کو پولیس نے گولی مار دی ہے۔ امریکہ، جرمنی اور فرانس جہاں گزشتہ برس دہشت گردی کے بڑے واقعات پیش آئے تھے کے سربراہان نے برطانیہ سے اظہارِ یجکہتی کیا ہے۔ فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے برطانوی وزیراعظم سے اظہارِ یجکہتی کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ہم سب کا مسئلہ ہے اور فرانس برطانوی عوام کے دکھ کو سمجھتا ہے۔ اس سے قبل فرانسیسی حکام نے تصدیق کی تھی کہ زخمی ہونے والوں میں تین فرانسیسی بچے بھی شامل ہیں۔ ملک کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ بچے سکول ٹرپ کے ساتھ لندھ گئے ہوئے تھے۔ فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ تین بچوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں برطانوی سکیورٹی فورسز کے کردار کی تعریف کی ہے۔ جرمنی جہاں گذشتہ برس ایک ٹرک کے ذریعے ہونے والے خودکش حملے میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے کی چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ان کا ملک برطانیہ کے ساتھ عوام اور حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے۔ ادھر پیرس کے آئفل ٹاور کی روشنیاں گرینج کے معیاری وقت کے شب گیارہ بجے متاثرین کی یاد میں بجھا دی گئیں۔