Tuesday, January 25, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

لندن فلیٹس کی ملکیت دستاویزات کے ذریعے ثابت کرنا پڑے گی: سپریم کورٹ

لندن فلیٹس کی ملکیت دستاویزات کے ذریعے ثابت کرنا پڑے گی: سپریم کورٹ
July 18, 2017

اسلام آباد(92نیوز)پاناما کیس میں شریف فیملی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ۔ شریف فیملی پر جو مقدمات ختم ہو چکے تھے انکا بھی جائزہ لیا گیا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ منی ٹریل آج تک معمہ ہے۔ لندن فلیٹس کی منی ٹریل کا جائزہ لینا ہوگا ۔ جے آئی ٹی رپورٹ تسلیم کرنی ہے یا نہیں فیصلہ عدالت کرے گی ۔

تفصیلات کےمطابق پانامہ عملدرآمد کیس کی سماعت میں شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے تیرہ سوالات جے آئی ٹی کو دیئے تھے لیکن جے آئی ٹی نے تیرہ کے بجائے 15 سوالوں پر تحقیقات کیں۔ جے آئی ٹی نے آمدن سے زیادہ اثاثوں کو بھی سوال کے طور پر شامل کر لیا۔ اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب ہے کہ جے آئی ٹی کا مینڈیٹ نہیں تھا کہ مزید جائیداد کی نشاندہی کرے۔ خواجہ حارث نے دلیل دی کہ شریف فیملی کے جو مقدمات ختم ہوچکے ہیں انکا بھی جائزہ لیا گیا۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا جے آئی ٹی جو بہتر سمجھتی تھی وہی سفارش کر دی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا انکی یادداشت کے مطابق لندن فلیٹس پہلے مقدمات کا بھی حصہ رہے ہیں۔ تمام مقدمات کا ایک دوسرے سے تعلق تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا منی ٹریل آج تک معمہ ہے۔ لندن فلیٹس کی منی ٹریل کا جائزہ لینا ہوگا۔ جے آئی ٹی رپورٹ کو تسلیم کرنا ہے یا نہیں یہ فیصلہ ٹرائل کورٹ کا ہوگا۔ خواجہ حارث نے کہا التوفیق کیس کا فیصلہ ہو چکا ہے جو دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل تیرہ  اور تعزیرات پاکستان کے تحت تفتیش پر فیصلہ ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے۔ انکوائری کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا ہم جے آئی ٹی کی سفارشات کے پابند نہیں۔ آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے  تحت جے آئی ٹی نے نہیں عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا آپ کہتے ہیں ہم کو پوچھا نہیں حالانکہ سوالات کے جوابات میں کہا گیا میں نہیں جانتا۔ وزیراعظم، مریم، حسن اور حسین کو بلایا گیا اور سوالات کیے گئے۔ وزیراعظم سے لندن فلیٹس کا پوچھا گیا تو انہوں نے کہا معلوم نہیں۔ شاید حسن مالک ہے۔ سوچ یہ تھی کہ کچھ تسلیم نہیں کرنا۔ اور نہ ہی کچھ بتانا ہے ۔ وزیراعظم نے تو اپنے خالو محمد حسین کو بھی پہچاننے سے انکار کردیا۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا محمد حسین وزیر اعظم کے خالو نہیں تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا جن فلیٹس میں ان کے بچے انیس سو ترانوے سے رہ رہے ہیں ان کے بارے میں کچھ نہ جاننے کا کہا گیا ۔ وزیراعظم لندن فلیٹس میں جاتے رہے لیکن انہیں علم نہیں کہ کس کے ہیں۔ ہل میٹل کی رقم کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کا پوچھا گیا تو اسکا جواب بھی نہیں آیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ وزیراعظم نے دوبئی میں کام کرنے کے لیے اقامہ تو لیا تھا نا ؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایف زیڈ ای کی بنیاد پر اقامہ دوہزار بارہ میں لیا تھا۔ تاہم وزیر اعظم ایف زیڈ ای سے تنخواہ نہیں لیتے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہل میٹل سے پیسے پاکستان کیسے آئے یہ بات آپ نے خود عدالت میں کہی تھی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اثاثوں کو تسلیم کیا گیا۔ اب دو ہی معاملات ہیں۔ ہم دیکھیں یا احتساب عدالت۔ رپورٹ کے کسی حصہ کی تردید نہیں کی گئی ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے خود شواہد کا بوجھ اپنے سر اٹھایا۔ سولہ مئی 2016 کو وزیراعظم نے اپنے خطاب میں یہ دعوٰی کیا کہ تمام جائیداد اور آمدن کے حوالے سے ریکارڈ موجود ہے۔ اگر سپیکر کو دستاویزات دی گئیں تو پھر ہمیں یعنی جے آئی ٹی کو کیوں نہیں دی گئیں؟ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا جے آئی ٹی رپورٹ اور شواہد کے جائزے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ معاملہ نیب کو بھیجیں یا نااہلی سے متعلق فیصلہ کر دیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ معاملہ سادہ سا ہے کہہ دیتے یہ جائیداد ہے اور یہ آمدن کے ذرائع اور معاملہ ختم ہوجاتا۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا جے آئی ٹی میں وزیراعظم کو وضاحت کا موقع نہیں دیا گیاْ اس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ وضاحت دے دیں ہم سننے کو تیار ہیں۔ تاہم شریف خاندان کے وکیل کا کہنا تھا وہ وضاحت تحریری صورت میں جمع کرائیں گے ۔ بعد ازاں کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔