Thursday, October 6, 2022

لاہور ہائیکورٹ کا لاہور کے 5 تھانوں کے ریکارڈ فرانزک کرانے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا لاہور کے 5 تھانوں کے ریکارڈ فرانزک کرانے کا حکم
لاہور ( 92 نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے لاہور کے 5 تھانوں کے ریکارڈ کا فرانزک کروانے، پنجاب کے تمام تھانوں میں روزنامچہ رجسٹر تحریر کرنے کا حکم دے دیا ۔ چیف جسٹس نےپولیس حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ روزانہ 3 سے 4 مقدمات میں پولیس کے سینئر افسروں کی لاقانونیت سامنے آتی ہے،ان لوگوں نے سارا جوڈیشل سسٹم بٹھا دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں منشیات کے مقدمہ میں گرفتار خاتون ملزمہ کی رہائی کی درخواست پر سماعت ہوئی ، عدالت نے لاہور کے 5 تھانوں کے ریکارڈ کا فرانزک کروانے، پنجاب کے تمام تھانوں میں روزنامچہ رجسٹر تحریر کرنے کا حکم دے دیا ۔ عدالت نے منشیات کے مقدمہ میں ملوث خاتون کو ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا ۔ وکیل کے مطابق 21 جون 2020 کو تھانہ میانہ منڈی بہاؤالدین میں میری مؤکلہ کے گھر پولیس ریڈکا وقوعہ ایف آئی آر میں درج ہے، درخواست گزار کے خاوند کیخلاف 10 منٹ پہلے ایف آئی آر درج کی ،بعد میں اہلیہ کودوکلوچرس برآمدگی کے علیحدہ مقدمہ میں نامزد کر دیا۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیارکیا کہ ایس پی نے پولیس اہلکاروں کوشوکاز نوٹس جاری کردیاہے۔ چیف جسٹس نے پولیس پربرہمی کااظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ روزانہ 3 سے 4 مقدمات میں پولیس کے سینئر افسروں کی لاقانونیت سامنے آتی ہے۔ ان لوگوں نے سارا جوڈیشل سسٹم بٹھا دیا ہے،اب پولیس نے روزنامچہ واقعاتی لکھنا کیوں بند کر دیا؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عابد ملہی کا والدسامنے آ گیا ہے ، جس میں انہوں نے کہا کہ عابد ملہی نے خود گرفتاری دی، ریمارکس دیئے کہ بدنیتی ظاہر ہو گئی تو آئی جی پنجاب کونہیں چھوڑوں گا،پولیس نے اپنی کوتاہیاں چھپانے کیلئے روزنامچے لکھنا چھوڑ دیئے۔