Saturday, December 4, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

لاہور ہائیکورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر نشر اور شائع کرنے پر پابندی لگا دی

لاہور ہائیکورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر نشر اور شائع کرنے پر پابندی لگا دی
August 31, 2015
لاہور (92نیوز) لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے پوچھا ہے کہ بتایا جائے الطاف حسین نے برطانوی شہریت لینے کے بعد کیا پاکستانی شہریت چھوڑی ہے یا نہیں؟ تفصیلات کے مطابق لاہو رہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے ایک نوعیت کی تین مختلف درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست میں الطاف حسین کے خلاف فوج مخالف تقاریر کرنے پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی۔ تین رکنی فل بینچ کے دیگر دو ارکان میں جسٹس مظہر اقبال سدھو اورجسٹس ارم سجاد گل شامل تھے۔ فل بینچ کے روبرو درخواست گزار عبداللہ ملک، آفتاب ورک اور مقصود اعوان کے وکلاءنے اعتراض اٹھایا کہ الطاف حسین فوج، رینجرز اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ مارچ سے اگست تک چار ایسی تقاریر کیں جو ملکی سالمیت وقار اور حب الوطنی کے خلاف ہیں۔ الطاف حسین کے بیانات آئین کے آرٹیکل چھ کے زمرے میں آتے ہیں۔ وکلاءکے مطابق الطاف حسین کی ان تقاریر سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ عدالت وفاقی حکومت کو حکم دے کہ وہ الطاف حسین اور رابطہ کمیٹی کے ارکان فاروق ستار، بابر غوری، وسیم اختر، ندیم نصرت، عتیق الرحمن، ارشاد ظفیر اور خالد مقبول صدیقی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرے۔ فل بینچ کو بتایا گیاکہ وزیر اعظم اور وزارت داخلہ کو بھی درخواست دی گئی لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ وکلاءکے دلائل سننے کے بعدلاہور ہائیکورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری کابینہ ڈویژن سے شق وار تفصیلی جواب طلب کرلیا۔ درخواستوں پر مزید سماعت سات ستمبر کو ہوگی۔