Tuesday, December 7, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

لاہور: پنجاب یونیورسٹی طلباء تصادم کے بعد پولیس کے کنٹرول میں

لاہور: پنجاب یونیورسٹی طلباء تصادم کے بعد پولیس کے کنٹرول میں
January 23, 2018

لاہور (92 نیوز) لاہور میں پنجاب یونیورسٹی ایک بار پھر طلباء میں تصادم کے بعد پولیس کے کنٹرول میں آ گئی ۔
پیر کے روز پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ ، پختون طلباء کے گروپ اور اسلامی جمعیت طلباء کے مابین پائنیر فیسٹیول کے انعقاد پر ایک بار پھر تنازعہ کھڑا ہو گیا جس سے تدریسی عمل شدید متاثر ہوا ۔
جامعہ پنجاب میں طلباء کا تصادم اب کوئی نئی بات نہیں رہی ۔
گزشتہ 2 سالوں میں لڑائی جھگڑوں کے کم و بیش 4 بڑے واقعات ہوئے جن میں 100 سے زیادہ طلباء زخمی ہوئے ، متعدد کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور کئی طلباء اپنی ڈگریوں سے محروم بھی ہوئے ۔
دسمبر 2016 میں پختون ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ موومنٹ اور جمعیت کے مابین رقص کی محفل منعقد کروانے پر جھگڑا ہوا ۔
21 مارچ 2107 کو پختون فیسٹیول کوبھی جمعیت نے روکنے کی کوشش کی تو بات لڑائی جھگڑے تک جا پہنچی ۔
اگست 2107 میں جمعیت نے پختون تنظیم پر ہاسٹل میں گھس کر طلباء پر تشدد کا الزام لگایا جس پر پولیس نے مداخلت کر کے تصادم رکوایا ۔
اسلامی جمعیت طلباء کا یہ بھی الزام ہے کہ پختون تنظیم قائم کرنے اور جھگڑے کروانے کے پیچھے سابق رئیس الجامعہ ڈاکٹر مجاہد کامران کا ہاتھ ہے ۔
ڈاکٹر مجاہد کامران کی سبکدوشی کے بعد گذشتہ ایک سال میں 2 قائم مقام وائس چانسلرز تعینات کیے جا چکے ہیں لیکن حکومتِ پنجاب یونیورسٹی کی زمین اونے پونے خریدنے کے لیے مستقل وائس چانسلر تعینات کرنے سے گریزاں دکھائی دیتی ہے ۔