Friday, January 27, 2023

لاہور میں آخری بار دو ہزار نو میں بسنت منائی گئی

لاہور میں آخری بار دو ہزار نو میں بسنت منائی گئی
لاہور (92 نیوز) لاہور میں بسنت منانے کی تاریخ خاصی طویل ہے۔ موسم بہار کی آمد کے موقع پر پتنگ بازی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل بسنت کا تہوار پر منایا جاتا تھا۔ چند برس قبل یہ میلہ خوب سجتا تھا۔ آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سج جاتا تھا۔ لاہور کی کوئی چھت ایسی نہیں  تھی جہاں سے پتنگ نہ اڑتی ہو۔ چھوٹے بڑے غرض خواتین بھی پتنگ بازی سے محظوظ ہوتی تھیں۔ ثقافتی رنگوں سے بھر پور بسنت کا تہوار بھارت اور پاکستان کے پنجاب کے علاقوں میں منایا جاتا تھا۔ یہ تہوار تاریخی طور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے  دور میں بہار کو خوش آمدید کہنے کے لئے منایا گیا۔ لاہور میں نوے کی دہائی میں پتنگ بازی عروج پر تھی۔ بسنت کی تیاری کئی ماہ پہلے ہی شروع ہو جاتی۔ پتنگیں بنانے کے چھوٹے چھوٹے کارخانے گلی گلی میں قائم تھے جبکہ دھاگے پر خصوصی مہارت کے ساتھ مختلف اقسام کی ڈور تیار کی جاتی تھی۔ بسنت نائٹ پر گویا لاہور میں چاند رات کا سماں ہوتا تھا۔ پھر اس ثفافتی تہوار کو کسی کی نظر لگ گئی۔ اس میں کئی خرافات بھی شامل ہو گئیں۔ ثقافتی تہوار کی رنگینیاں ماند پڑ گئیں۔ دھاتی تار کے استعمال نے کئی جانیں لے لیں تو حکومت نے چند برس پہلے اس تہوار کے منانے پر پابندی عائد کر دی۔ لاہور میں آخری بار دو ہزار نو میں بسنت منائی گئی جبکہ دو ہزار بارہ میں عدالت نے پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔