Wednesday, October 5, 2022

لاک ڈاؤن کے باعث شادی ہالز کی بندش کو چار ماہ گزر گئے ،ملازمین فاقہ کشی پر مجبور

لاک ڈاؤن کے باعث شادی ہالز کی بندش کو چار ماہ گزر گئے ،ملازمین فاقہ کشی پر مجبور

سکھر ( 92 نیوز) کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث شادی ہالز کی بندش کو 4 ماہ ہوگئے  ، جس کے باعث ملازمین کے گھروں پر فاقہ کشی شروع ہوگئی ۔ سکھر، میر پور خاص اور ٹنڈوالہ یار میں ملازمین نے احتجاج ریکارڈ کروانے کیلئے انوکھے طریقے اپنائے ، کوئی دیگیں بجاتا رہا ، کسی نے شہنائیاں بجائیں  اور ڈھول بجا تو رقص کیے بغیر بھی نہ رہ سکے۔

سکھر میں کورونا وائرس کے باعث شادی ہالز کی بندش کو 4 ماہ ہوگئے، جس کیخلاف اس سے جُڑے تمام افراد ڈھول کی تھاپ پر رقص کرکے  اور دیگیں بجاکر احتجاج کرتے رہے ۔

میر پور خاص میں بھی شادی ہال مالکان، کیٹرنگ،الیکٹرک ڈیکوریشن اور مووی میکرز نے پریس کلب پر احتجاج کیا  اور کاروبار کی بندش کو معاشی قتل قرار دیا ۔

ٹنڈوالہ یار کے شادی ہال مالکان اور ملازمین بھی سراپا احتجاج بن گئے ، احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ  شادی ہالز کی تالا بندی کے باعث گھروں پر فاقہ کشی جیسی صورتحال کا سامنا ہے ۔

شادی ہالز سے جڑے ہر طبقہ فکر کے افراد کو نہ صرف اپنی بلکہ اہلخانہ کی فکر بھی ستارہی

ہے جبکہ شادی ہالز ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ حکومت نے 2 اگست سے شادی ہالز کھولنے کی حامی بھر لی ہے ۔