Thursday, December 1, 2022

قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ کا جوائٹ سیکرٹری صحت پر اظہار برہمی

قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ کا جوائٹ سیکرٹری صحت پر اظہار برہمی
 اسلام آباد (92 نیوز) ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جوائٹ سیکرٹری صحت پر اظہار برہمی کیا اور صحت سے متعلق عالمی اور ملکی قوانین طلب کر لیں۔ قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کی اور نام لیے بغیر نوازشریف کیلئے قائم کردہ میڈیکل بورڈ کا تذکرہ کیا۔ ریمارکس دئیے کہ خاص کیلئے تو میڈیکل بورڈ بن سکتا ہے لیکن عام قیدی کیلئے کیوں نہیں بناتے؟ بظاہر لگ رہا ہے وفاقی حکومت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کے نمائندوں کو مخطاب کیا اور ریمارکس دئیے کہ جیلوں میں کتنی کرپشن ہے آپکو اسکا اندازہ ہے۔ اڈیالہ جیل کی حالت کا آپ کو پتہ ہے۔ وارڈز کے بیچ میں سے بھی نالے جارہے ہیں۔ 1500 کی گنجائش ہے اور 4800 قیدی ہیں۔ کوریڈور میں بھی لوگ سوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا قیدی حکومت کی قید میں ہیں اور انکی ذمہ داری حکومت پر ہے۔ قیدی کو کرمنل بنانا مقصد نہیں ہوتا بلکہ ان کی ذہن سازی بھی ضروری ہے۔ کیوں نہ قیدیوں کو کہہ دیا جائے کے حکومت کے خلاف کیس فائل کرے۔ عدالت نے صحت سے متعلق عالمی اور ملکی قوانین طلب کرتے ہوئے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ ادھر ملک بھر کی جیلوں میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا گیا۔ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری چیئرپرسن مقرر کر دی گئی۔ کمیشن ملک بھر کی جیلوں میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی ورزیوں کی تحقیقات کرے گا اور سہولیات کی بہتر مینجمنٹ سسٹم سے متعلق سفارشات پیش کرے گا۔