Tuesday, November 29, 2022

قومی اسمبلی میں بائیسویں آئینی ترمیم متفقہ طور پرمنظور

قومی اسمبلی میں بائیسویں آئینی ترمیم متفقہ طور پرمنظور

اسلام آباد (92نیوز) چیف الیکشن کمشنر اور ممبرز کےلئے سابق جج کی شرط ختم۔ قومی اسمبلی نے 22ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پرمنظور کر لی۔ ترمیم کے حق میں 236ووٹ آئے۔ کسی بھی رکن نے مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے 22ویں آئینی ترمیم کو شق وار منظوری کے لیے پیش کیا۔ ترمیم کے حق میں 236 ووٹ آئے جب کہ کسی بھی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ 22ویں آئینی ترمیم بل کے ذریعے آئین کے 8 آرٹیکلز میں ترامیم کی تجویز دی گئی ہے۔

آئینی ترمیم کی سینیٹ سے منظوری اور صدر کے دستخط کے بعد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے علاوہ سینئر سرکاری افسر یا ٹیکنوکریٹ بھی الیکشن کمیشن کے رکن بن سکیں گے۔

بل میں چیف الیکشن کمشنر کے لیے سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہونے کی شرط ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔

اس کے علاوہ سینئر ریٹائرڈ سرکاری افسر کے لیے تجربے کی کم سے کم میعاد 20سال، چیف الیکشن کمشنر کے لیے عمر کی زیادہ سے زیادہ حد 68 سال جب کہ ارکان الیکشن کمیشن کے لیے عمر کی زیادہ سے زیادہ حد 65سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ چاروں صوبائی الیکشن کمشنر آئندہ ماہ ریٹائر ہورہے ہیں۔