Monday, October 3, 2022

قومی اسمبلی: حکومت نے فاٹا بل پیش نہ کیا، اپوزیشن کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی: حکومت نے فاٹا بل پیش نہ کیا، اپوزیشن کا واک آؤٹ

اسلام آباد (92 نیوز) حکومت وعدہ کر کے پھر مکر گئی۔ فاٹا اصلاحات پر جمی برف نہ پگھل سکی۔ بل قومی اسمبلی میں پیش نہ ہونے پر اپوزیشن کا پارہ ہائی ہوا اور وہ پھر واک آؤٹ کر گئی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا۔
فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔
اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے رکن نوید قمر نے کہا کہ شرم کی بات ہے کہ بل آج بھی ایجنڈے میں شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس امید سے ایوان میں آئے کہ فاٹا کی قسمت بدلے گی لیکن سیاسی مفاد کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ یہ ایوان انہیں کیا پیغام دے رہا ہے۔
نوید قمر نے کہا کہ حکومت نے سیاسی مجبوریوں کے باعث بل کو ایجنڈے سے نکال دیا۔ جب تک بل ایجنڈے پر نہیں آتا ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔
نوید قمر کے اظہار خیال کے بعد مشترکہ اپوزیشن ایوان سے واک آﺅٹ کر گئی۔
دوسری طرف وزیر سیفران عبد القادر بلوچ نے کہا کہ فاٹا بل حکومت کی ملکیت ہے اور شور اپوزیشن کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل مشاورت سے جلد لائیں گے۔ صبر سے کا م لیا جائے۔ اصلاحات کا کریڈٹ کسی اور کو نہیں دے سکتے۔
اپوزیشن کے واک آﺅٹ کے بعد پیپلز پارٹی کے رمیش لال نے کورم کی نشاندہی کر دی جس پر سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔