Tuesday, September 27, 2022

قومی اسمبلی اجلاس: وزیراعظم‘ وزراء غیرحاضر‘ خورشید شاہ کا تقریر کرنے سے انکار

قومی اسمبلی اجلاس: وزیراعظم‘ وزراء غیرحاضر‘ خورشید شاہ کا تقریر کرنے سے انکار
اسلام آباد (92نیوز) تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور کرلیا گیا۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے وزیراعظم، وزراءاور ارکان نہ ہونے پر تقریر کرنے سے انکار کر دیا۔ خورشید شاہ کہتے ہیں جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے وہ صدارتی خطاب پر بحث کا آغاز نہیں کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران رکن ایم کیو ایم ثمن جعفری نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ پاکستان میں داعش موجود نہیں۔ مولانا عبدالعزیز اسلام آباد میں بیٹھ کر داعش کے لیے کام کر رہے ہیں، حکومت بتائے مولانا عبدالعزیز کے خلاف اب تک کیا کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس پر حکومت ایوان کو اعتماد میں لے۔ ہارٹ آف ایشیا کا مطلب افغانستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم ہے۔ ہم بارہا کہتے رہے کہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملے کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں۔ جنگ اسلامی دنیا اور مسلمان کی ضرورت نہیں ہے۔ جنگ صرف مغرب کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے اپنا اسلحہ بیچنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کی حکومتیں اور عوام امن چاہتی ہیں لیکن دہشت گردی کے واقعات کے باعث ایسا نہیں ہوپاتا، ہمیں قیام امن کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقین کو ایک صفحے پر لانے کی ضرورت ہے، مربوط حکمت عملی کے تحت دنیا کے ساتھ بات کرنا ہوگی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باعث مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اٹھانے میں شملہ معاہدہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ فضل الرحمان نے کہا کہ دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں کرسکتے،دوطرفہ مذاکرات میں بھارت کشمیر کو اندرونی مسئلہ قرار دیتا ہے،بھارت کا موقف عالمی قراردادوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کو مضبوط بنایا جائے، پاک چین اقتصادی راہداری پر بھارت کی تشویش بدنیتی پر مبنی ہے، ہمسایہ ممالک ہمیں مشکلات میں مبتلا نہ کریں۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے وزیراعظم، وزراءاور ارکان نہ ہونے پر تقریر کرنے سے انکار کر دیا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ وہ جب چیف وہیپ تھے تو کسی کی ہلنے کی بھی جرات نہیں تھی‘ آج شیخ آفتاب بھی تنگ آکر نہیں آ رہا۔ جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے صدارتی خطاب پر بحث کا آغاز نہیں کریں گے۔ ارکان اسمبلی نے بلوچستان کے برآمد و درآمد کنندگان سے امتیازی سلوک کا شکوہ کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کسٹم حکام بلوچستان کے تاجروں سے 100فیصد کسٹم ڈیوٹی پیشگی طلب کی جاتی ہے، دیگر صوبوں کے تاجروں کے برعکس بلوچستان والوں سے کسٹم ڈیوٹی ڈالر میں وصول کی جاتی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ کھانے پینے کی اشیاءکی برآمد اور ہر قسم کی درآمد پر ڈیوٹی روپے میں وصول کی جاتی ہے۔ اس سے قبل وقفہ سوالات کے دوران وزیر صنعت و پیداوار نے تحریری جواب میں بتایا کہ اسٹیل ملز کے ملازمین کو اگست اور ستمبر کی تنخواہیں جاری نہیں ہو سکیں۔ ای سی سی کی منظوری کے باوجود تنخواہیں تاحال جاری نہیں ہوسکیں۔ ابھی تک وزارت خزانہ نے رقم جاری نہیں کی۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا جس پر وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ بلوچستان نے بجلی کے 145ارب روپے کے واجبات ادا کرنے ہیں، ٹیوب ویلز سے 125ارب روپے کی وصولیاں کی جانی ہیں، زیادہ لوڈشیڈنگ وہاں کی جاتی ہے جہاں واجبات زیادہ ہوں۔