Friday, October 7, 2022

قوت سماعت کی خرابی کی ابتدائی علامات

قوت سماعت کی خرابی کی ابتدائی علامات
لاہور (ویب ڈیسک) قوت سماعت سے محرومی بڑھاپے میں ہی مقدر نہیں ہوتی بلکہ نوجوان بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بہرہ پن کی شکایت ہر عمر کے افراد کو یکساں اپنا نشانہ بنا سکتی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سننے کی حس سے محرومی کی کچھ انتباہی علامات ہوتی ہیں اور اگر کوئی فرد محسوس کرے کہ وہ بہرے پن کے مرض کی جانب گامزن ہے تو فوری کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کانوں میں کچھ سیکنڈ کے لیے بھنبھناہٹ یا گھنٹیاں بجنا سماعت سے محرومی کی ابتدائی علامات میں سے ایک ہے۔ نیویارک میڈیکل کالج کے طبی ماہرین کے مطابق جب یہ واضح ہوجائے کہ آپ کو اپنے ارگرد بھنبھناہٹ یا گھنٹیاں بجتی محسوس ہورہی ہیں اور ایسا اکثر یا قابل توجہ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے کانوں کے اعصاب کو نقصان پہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیڈ فون کا استعمال سننے کی حس کو نقصان پہنچانے میں بڑا کردار ادا کرتا ہے اور نوجوان نسل کو اپنے کانوں پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر ہیڈفون پر موسیقی سننے کے بعد کانوں میں بھنبھناہٹ یا گھنٹیاں بجیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ بہت تیز آواز میں گانے سن رہے ہیں جو قوت سماعت کی مستقل محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ قوت سماعت میں کمی دماغی تنزلی کا اشارہ ہوتی ہے۔ قوت سماعت سے محرومی اکثر سماجی تنہائی کی جانب لے جاتی ہے جس کے نتیجے میں دماغی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر سننے کی حس متاثر ہو تو دماغ کو یادداشت اور سوچنے کی بجائے اپنی اضافی توانائی آواز کو سمجھنے میں صرف کرنا پڑتی ہے جس سے یہ دونوں افعال متاثر ہوتے ہیں۔ گاڑیوں کا ہارن تیز اور بیزار کن تو ہوسکتا ہے مگر تکلیف دہ نہیں۔ جب کوئی شخص سننے کی حس سے کو کھو رہا ہوتا ہے تو اس کے کان اونچی آواز کو بہت کم برداشت کرپاتے ہیں کیونکہ ان آوازوں سے کانوں کو نقصان ہونے لگتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جب آپ ایک بات کسی سے باربار پوچھیں تو یہ بھی قوت سماعت میں خرابی کی ابتدائی علامات میں سے ہے۔